وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص مختصر عرصے میں نظام کے اعلیٰ ترین مناصب تک پہنچا، آج وہی موجودہ نظام کو ناکام قرار دے رہا ہے۔
آزاد کشمیر کے علاقے ہٹیاں بالا میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے نام لیے بغیر محسن نقوی پر تنقید کی اور کہا کہ بعض لوگ اب یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ملک کا موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے، حالانکہ انہوں نے خود اسی نظام کے ذریعے غیر معمولی ترقی حاصل کی۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “جس سفر میں دوسروں کو تین دہائیاں لگ جاتی ہیں، وہ آپ نے ساڑھے تین برس میں طے کر لیا، اور اب آپ کو یاد آیا ہے کہ سسٹم خراب ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ نظام اتنا ہی ناقص تھا تو پھر اسی نظام نے انہیں اتنی تیزی سے اہم ریاستی عہدوں تک کیسے پہنچایا؟
رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ پاکستان کا پارلیمانی جمہوری نظام کسی فرد یا حکومت کی دین نہیں بلکہ یہ قائداعظم محمد علی جناح کے نظریات اور طویل سیاسی جدوجہد کا نتیجہ ہے، جسے کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اپنی تقریر میں انتخابی دھاندلی سے متعلق الزامات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر موجودہ وزیراعظم کو فارم 47 کی پیداوار قرار دیا جاتا ہے تو پھر انہی انتخابی نتائج کے تحت منتخب ہونے والے دیگر آئینی عہدوں پر سوال کیوں نہیں اٹھایا جاتا۔ ان کے مطابق صرف مخصوص شخصیات یا اداروں کو نشانہ بنانا سیاسی تضاد کی نشاندہی کرتا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے نواز شریف سے متعلق الزامات پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مخالفین ماضی کے واقعات کو بھی یاد رکھیں اور سیاسی تاریخ کا یکطرفہ مطالعہ کرنے کے بجائے مکمل تناظر میں بات کریں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کا موجودہ انتظامی نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا اور ملکی مسائل کے حل کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد حکومت اور اتحادی جماعتوں کے مختلف رہنماؤں کی جانب سے متضاد ردعمل سامنے آ رہا ہے۔