اسمبلیوں سے استعفے یا پارلیمانی سیاست؟

فہرستِ مضامین

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے منسوب ایک پیغام سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے علاوہ دیگر تمام اسمبلیوں اور منتخب اداروں سے پارٹی ارکان کو مستعفی ہونے کی ہدایت دی ہے۔

پارٹی کے بعض اعلیٰ ذرائع کے مطابق عمران خان نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر بھی ناراضی کا اظہار کیا، تاہم وہاں کی صوبائی حکومت اور ارکان اسمبلی کو استعفوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کا مؤقف ہے کہ مختلف اسمبلیوں میں موجود پی ٹی آئی کے ارکان اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور ان کی پارلیمانی حکمت عملی سے موجودہ حکومت کو فائدہ پہنچا۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کا یہ بھی خیال ہے کہ موجودہ حالات میں انہیں قانونی معاملات میں کسی قسم کی رعایت ملنے کا امکان نہیں۔

دوسری جانب پارٹی کے ایک بااثر ذریعے نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے استعفوں سے متعلق کوئی نئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس خبر کے بعد پارٹی کے اندر مختلف آراء سامنے آئی ہیں اور متعدد ارکان قومی اسمبلی استعفوں کے بجائے پارلیمنٹ اور قائمہ کمیٹیوں میں فعال کردار جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔

پی ٹی آئی کی پارلیمانی قیادت کا بھی کہنا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں میں شمولیت کا فیصلہ پہلے ہی عمران خان کی منظوری سے کیا گیا تھا اور اس حوالے سے کوئی نئی ہدایت موصول نہیں ہوئی۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق اگر اس مرحلے پر اسمبلیوں سے استعفے دیے گئے تو تحریک انصاف کو پارلیمانی سیاست میں حاصل ہونے والی موجودہ سیاسی گنجائش بھی ختم ہو سکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں