ٹرمپ کی سفارتی سرگرمیاں تیز، پاکستان اور قطر کی ثالثی اہم مرحلے میں داخل

فہرستِ مضامین

امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً تین ماہ سے جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے امکانات روشن ہونے لگے ہیں، جبکہ امریکی صدر Donald Trump نے مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے کئی اہم رہنماؤں کے ساتھ ہنگامی سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے خلیجی اور علاقائی رہنماؤں کے ساتھ انتہائی مثبت اور اہم گفتگو کی، جس میں جنگ بندی، ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور خطے میں استحکام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی ویب سائٹ “ایکسیوس” کے مطابق صدر ٹرمپ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، ترکیہ اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ مشترکہ رابطہ کیا، جہاں متعدد رہنماؤں نے ان پر زور دیا کہ وہ تہران کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائیں اور دوبارہ فوجی تصادم سے گریز کریں۔

رپورٹ میں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اور ایران جنگ کے خاتمے سے متعلق ایک معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں، جبکہ باقی ماندہ اختلافات صرف چند تکنیکی اور سیاسی نکات کی لفظی ترتیب تک محدود رہ گئے ہیں۔

تاہم عہدیدار نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور وہ اب بھی مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنا بھی شامل ہے۔

معاہدہ یا دوبارہ جنگ؟ ٹرمپ نے امکانات برابر قرار دے دیے

صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے یا دوبارہ جنگ شروع ہونے کے امکانات “برابر” ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے وہ اپنی مذاکراتی ٹیم سے تفصیلی مشاورت کریں گے۔

ٹرمپ کے مطابق امریکا ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی مکمل سکیورٹی کو یقینی بنائے۔

“ایکسیوس” کے مطابق توقع ہے کہ ٹرمپ جلد اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu سے بھی رابطہ کریں گے تاکہ ایران مذاکرات پر پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ نائب صدر JD Vance اور امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth کو بھی ایرانی صورتحال پر ہنگامی مشاورت کے لیے واشنگٹن طلب کر لیا گیا ہے۔

پاکستانی ثالثی نے مذاکرات کو نئی رفتار دے دی

دوسری جانب پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی بھی اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل Asim Munir تہران میں ایرانی حکام سے اہم ملاقاتوں کے بعد واپس اسلام آباد روانہ ہو گئے ہیں۔

پاکستانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ مذاکرات میں “حوصلہ افزا پیش رفت” ہوئی ہے اور فریقین حتمی مفاہمت کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ جس نئے مسودے کا جائزہ لے رہے ہیں وہ حالیہ ایرانی۔پاکستانی رابطوں اور ثالثی کا نتیجہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر غور مفاہمتی یادداشت میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرہ ختم کرنے اور منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔

اہم اختلافات اب بھی برقرار

اگرچہ مذاکراتی ماحول مثبت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم کئی بنیادی معاملات اب بھی حل طلب ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، پابندیاں ختم کرنے کا طریقہ کار اور آبنائے ہرمز میں مکمل بین الاقوامی جہاز رانی کی بحالی سرفہرست ہیں۔

ایک ایرانی ذریعے نے بتایا کہ تہران جنگ ختم کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے بدلے واشنگٹن سے واضح اور عملی ضمانتیں چاہتا ہے، خاص طور پر منجمد فنڈز اور تیل پر پابندیوں کے حوالے سے۔

اسی دوران ایک اعلیٰ عہدیدار نے انکشاف کیا کہ معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار ہو چکا ہے، تاہم ابھی دونوں فریقوں کی حتمی منظوری باقی ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی سیاست کا مرکز بن گئی

جنگ کے باعث تیل اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ توانائی کی عالمی منڈیوں میں طویل مدتی بحران کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں، جس کے باعث ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز اس پورے تنازع کا سب سے حساس نکتہ بن چکی ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل تجارت اسی بحری راستے سے گزرتی ہے۔

واشنگٹن کی کوشش ہے کہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی فیس یا پابندی کے مکمل طور پر بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھولا جائے، جبکہ ایران اس معاملے میں اپنی خودمختاری اور سکیورٹی مفادات پر زور دے رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند گھنٹے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں کہ آیا مشرق وسطیٰ ایک تاریخی امن معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے یا پھر خطہ ایک نئی اور خطرناک فوجی کشیدگی میں داخل ہونے والا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں