ایران امریکا جنگ اور مذاکرات ساتھ ساتھ، اس جنگ کے 55 ویں دن کیا ہوا ہے اور کیا ہو رہا ہے؟

فہرستِ مضامین

ترتیب: اِشفاق احمد

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں خلیجی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں ایران نے دو بحری جہازوں کو اپنی تحویل میں لے لیا، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے دونوں جہازوں کو روک کر ایرانی ساحل کی جانب منتقل کیا۔ ان جہازوں پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ ضروری اجازت ناموں کے بغیر چل رہے تھے اور اپنی نیویگیشن سسٹمز میں رد و بدل کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک تیسرے جہاز پر فائرنگ بھی کی گئی، تاہم وہ محفوظ رہا اور اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گیا۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو غیر معینہ مدت تک روکنے کا اعلان کیا، تاہم جنگ بندی کی مدت اور اس کی حیثیت بدستور غیر واضح ہے۔ امریکی اعلان کے باوجود ایرانی قیادت نے کسی باضابطہ توسیع پر اتفاق نہیں کیا۔

ایران کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ جب تک امریکی بحریہ کی جانب سے عائد کردہ ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، مکمل جنگ بندی ممکن نہیں۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنا ممکن نہیں، اور ایران اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔

دوسری جانب پینٹاگون میں بھی اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی، جہاں امریکی بحریہ کے سیکریٹری جان فیلن کو اچانک عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ یہ اقدام جنگ کے دوران امریکی عسکری قیادت میں جاری ردوبدل کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی فوج پہلے ہی ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کو سخت کر چکی ہے اور متعدد جہازوں کو راستہ بدلنے یا واپس لوٹنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایشیائی پانیوں میں بھی ایرانی آئل ٹینکرز کو روکا گیا ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور برینٹ کروڈ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہے۔

ادھر سفارتی سطح پر بھی پیشرفت سست روی کا شکار ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں متوقع مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں، جبکہ اسلام آباد میں ہونے والی ابتدائی بات چیت بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔

امریکہ چاہتا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی محدود کرے، جبکہ ایران پابندیوں کے خاتمے، جنگی نقصانات کے ازالے اور آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو تسلیم کروانے پر زور دے رہا ہے۔

خطے میں کشیدگی کا دائرہ لبنان تک پھیل چکا ہے، جہاں اسرائیلی حملوں میں ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، جبکہ ایران نے ایک شخص کو اسرائیل سے مبینہ روابط کے الزام میں سزائے موت بھی دے دی ہے۔

مجموعی طور پر صورتحال تاحال غیر یقینی کا شکار ہے، جہاں جنگ بندی، مذاکرات اور فوجی اقدامات ایک ساتھ جاری ہیں اور آبنائے ہرمز بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں