ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سفارتی عمل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گیا ہے، جہاں ایرانی حکام نے مذاکرات رکنے کا ذمہ دار امریکی بحری ناکہ بندی کو قرار دیا ہے۔
ایرانی قیادت کے مطابق امریکی بحریہ کی جانب سے بندرگاہوں پر عائد پابندیاں اور بحری دباؤ نے امن مذاکرات کو آگے بڑھنے سے روک دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں بامعنی بات چیت ممکن نہیں رہی۔
دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو غیر ملکی بحری جہازوں کو تحویل میں لیا گیا ہے جبکہ ایک تیسرے جہاز پر فائرنگ اس لیے کی گئی کہ اس نے مبینہ طور پر سمندری قوانین کی خلاف ورزی کی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات اور معاہدے کا خواہاں ہے، لیکن ان کے مطابق “معاہدوں کی خلاف ورزی، ناکہ بندی اور دھمکیاں حقیقی امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔”
خطے میں صورتحال صرف خلیج تک محدود نہیں رہی۔ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی فورسز کے چھاپے کے دوران ایک 15 سالہ فلسطینی لڑکے کی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ادھر لبنان نے اسرائیل کی جانب سے صحافی عمل خلیل کے مبینہ ہدفی قتل کی سخت مذمت کی ہے، جبکہ ان کی ساتھی صحافی زینب فرج کے زخمی ہونے پر بھی شدید احتجاج کیا گیا ہے۔
پورے خطے میں جاری ان واقعات کے باعث صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، جبکہ مختلف محاذوں پر انسانی جانوں کے ضیاع اور بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔