جتوئی قبیلہ: شر، تڑت، بلو، کوش، زنگیجو، مائی جتو کون تھی؟

فہرستِ مضامین

تحرير : شکيل سومرو

یہ سوال آج بھی سندھ اور بلوچستان کے کئی دیہات، اوطاقوں اور محفلوں میں سننے کو ملتا ہے۔ سادہ لفظوں میں کہا جائے تو مائی جتو ایک ایسی عورت تھی جس کا نام صرف ایک فرد کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک پوری قبائلی شناخت کی بنیاد کے طور پر زندہ رہا۔
ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، جو بلوچ روایات اور نسب ناموں کے معتبر محقق سمجھے جاتے ہیں، اپنی تحقیقات میں لکھتے ہیں کہ مائی جتو جلال خان بلوچ کی بیٹی تھی۔ روایت کے مطابق جلال خان کے چار بیٹے تھے—رند، لاشار، کورائی اور ہوت—اور ایک بیٹی مائی جتو۔ انہی سے آگے چل کر بڑے بلوچ قبائل وجود میں آئے: رند ,لاشاري ,کورائي اور هوت قبائل جبکہ مائی جتو کی نسل سے جتوئي قبيلي کو منسوب کیا جاتا ہے۔
یہاں کہانی کا سب سے اہم اور قابلِ غور پہلو سامنے آتا ہے۔ ایک ایسا قبائلی معاشرہ جہاں عام طور پر شناخت اور قیادت مردوں کے نام سے جڑی ہوتی ہے، وہاں ایک پورے قبیلے کا نام ایک عورت سے منسوب ہونا صرف روایت نہیں بلکہ اس دور کی سماجی سوچ کا ایک نسبتاً ترقی پسند پہلو بھی ظاہر کرتا ہے—جہاں عورت کو نسل کی بنیاد اور شناخت کے مرکز کے طور پر قبول کیا گیا۔
ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نے اپنی مشہور کتاب “رهاڻ هيرن کاڻ” میں بلوچ قبائل کے نسب ناموں اور زبانی روایات کو تفصیل سے محفوظ کیا ہے۔ ان روایات کے مطابق بلوچ قبائل ایک ہی بنیادی نسل سے نکلے اور وقت کے ساتھ ساتھ بلوچستان، سندھ اور برصغیر کے مختلف حصوں تک پھیل گئے۔ رند اور لاشار کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے کہ دونوں کا نسب اسحاق سے جوڑا جاتا ہے—حسن بن اسحاق کی اولاد لاشاری اور شیہک بن اسحاق کی اولاد رند کہلائی۔


مائی جتو کی نسبت سے منسوب جتوئی قبیلہ آج بھی سندھ میں ایک بڑی سماجی شناخت رکھتا ہے۔ اس کے اندر مختلف شاخیں شامل ہیں جیسے شر، شادان، تڑت، بلو، کوش اور زنگیجو، جو مل کر ایک وسیع قبائلی ڈھانچہ تشکیل دیتی ہیں۔
مائی جتو کی کہانی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ صرف ایک نسب نامے کا نام نہیں بلکہ اس سوچ کی علامت ہے جہاں عورت کو بھی قیادت اور شناخت کا مرکز سمجھا گیا۔ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جو اس سخت قبائلی دور میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ صدیوں پہلے جب معاشرے کی پوری ساخت مردوں کے نام، طاقت اور اختیار کے گرد گھومتی تھی، وہاں ایک قبیلہ کسی مرد کے بجائے ایک عورت کے نام سے پہچانا جانا نہ صرف ایک روایت ہے بلکہ ایک مثبت اور نسبتاً ترقی پسند سماجی پیغام بھی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ عورت صرف گھریلو دائرے تک محدود نہیں تھی بلکہ بعض صورتوں میں عزت، اثر اور شناخت کا مرکز بھی تھی۔
مائی جتو کا کردار صرف علامتی نہیں بلکہ ایک ایسے تاریخی تصور کی نمائندگی کرتا ہے جس میں عورت نسل کو جنم دینے کے ساتھ ساتھ اسے شناخت بھی دیتی ہے۔ وہ صرف روایتوں کی محافظ نہیں بلکہ بعض حوالوں سے ان کی بنیاد بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مائی جتو کا نام آج بھی زندہ ہے—کہانی کے طور پر بھی، تاریخ کے طور پر بھی، اور شناخت کے طور پر بھی۔
لوک روایات میں مائی جتو کو ایک بااثر، سمجھدار اور مضبوط ارادے والی عورت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جو قبائلی معاملات میں بھی اثر رکھتی تھی۔ تاہم کچھ محققین کے نزدیک وہ ایک علامتی کردار بھی ہو سکتی ہیں، یعنی ایک ایسی شخصیت جس کے ذریعے ایک قبیلہ اپنی اصل اور شناخت کو بیان کرتا ہے۔
حقیقت اور روایت کے درمیان یہ کردار مائی جتو کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں تاریخ بھی ہے، روایت بھی ہے اور علامت بھی۔
مائی جتو کو صرف ایک عورت سمجھنا شاید کافی نہیں۔ وہ ایک علامت ہے—اس بات کی کہ تاریخ صرف بادشاہوں، جنگوں اور مردوں کی نہیں بلکہ عورتوں کی قیادت، حوصلے اور شناخت کی بھی ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ صدیوں گزرنے کے باوجود مائی جتو کا نام آج بھی زندہ ہے—ایک کہانی کی صورت میں، ایک حقیقت کی صورت میں، اور ایک ایسے سوال کی صورت میں جس کا جواب معاشرے کو آج بھی تلاش کرنا ہے۔
مائی جتو کا ذکر صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ ایک زندہ سوال ہے—کیا آج کے معاشرے میں عورت کو وہی مقام دیا جا رہا ہے جو اسے تاریخ کے بعض لمحات میں حاصل تھا؟

مائی جتو کا کردار اگرچہ مکمل تاریخی تفصیل کے ساتھ محفوظ نہیں، لیکن روایات، نسب ناموں اور سماجی یادداشت میں انہیں جو مقام ملا ہے وہ خود ایک تاریخی اعتراف ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ عورت بھی نسل، شناخت اور قیادت کا مرکز ہو سکتی ہے اور رہی ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے۔ جب صدیوں پہلے ایک قبائلی معاشرہ مائی جتو جیسی عورت کو اپنی شناخت کی بنیاد بنا سکتا تھا، تو آج کے سندھ کے جاگیردارانہ معاشرے میں عورتوں کو قیادت کے لیے آگے کیوں نہیں لایا جاتا؟ آج بھی فیصلوں کا اختیار کیوں مردوں تک محدود ہے؟ عورت کی موجودگی کو روایت کے نام پر پیچھے کیوں دھکیل دیا جاتا ہے؟

جتوئی قبائلی ڈھانچے میں عورت کے نام پر شناخت تو موجود ہے، مگر قیادت میں اس کا کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا۔
دو چیف سردار، تین خان، آٹھ مقدم اور بیاسی وڈیري سب مرد، عورت کہیں نظر نہیں آتی۔
یہ تضاد خود ایک بڑا سوال بن کر سامنے آتا ہے۔
جس مائی جتو کے نام پر قبیلہ پہچانا جاتا ہے، اسی کی وارثی ساخت میں عورت کیوں غائب ہے؟
یہ صرف ایک سماجی کمی نہیں بلکہ ایک تاریخی ناانصافی محسوس ہوتی ہے۔
مائی جتو کا نام قیادت کی علامت ہے، مگر عملی دنیا میں اس کی روح کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ نام سے آگے بڑھ کر اُس فکر کو بھی زندہ کیا جائے جس نے مائی جتو کو تاریخ بنا دیا۔
مائی جتو کا نام صرف ماضی کی کہانی نہیں بلکہ آج کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا ایک زندہ سوال ہے ایسا سوال جس کا سچا اور ایماندار جواب ہمیں اپنی سوچ، اپنے رویے اور اپنی سماجی ترجیحات میں تلاش کرنا ہوگا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں