امریکی حکام نے چین پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کے بحران پر ایران کو مزید مؤثر انداز میں قائل کرے، تاہم چینی صدر شی جن پنگ اپنے مؤقف پر قائم نظر آئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ دورے سے قبل کئی ہفتوں تک واشنگٹن کی جانب سے چین پر دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے تہران کو مذاکرات اور جنگ بندی کی طرف لائے۔ مگر جمعہ کو ٹرمپ کے بیجنگ سے روانہ ہونے تک دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان ایران جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کوئی واضح پیش رفت سامنے نہ آسکی۔
ایران سے متعلق جاری جنگ اب اپنے 77ویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر حملے کیے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل سمیت خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔
چین نے ایک بار پھر جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے عوام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق جلد اور پُرامن حل صرف امریکہ اور ایران ہی نہیں بلکہ عالمی برادری کے مفاد میں بھی ہے۔
چین نے پاکستان کی ثالثی میں جاری جنگ بندی کوششوں کا خیر مقدم کیا اور زور دیا کہ مستقل اور جامع سیز فائر کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ بیجنگ نے صدر شی جن پنگ کے چار نکاتی امن منصوبے کا بھی اعادہ کیا، جس میں سیاسی مذاکرات، مشترکہ سلامتی، ترقیاتی تعاون اور پُرامن بقائے باہمی پر زور دیا گیا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور چین اس بات پر متفق ہیں کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے کھلی رہنی چاہیے۔ یاد رہے کہ مارچ کے آغاز سے ایران نے اس اہم بحری راستے پر آمد و رفت محدود کر رکھی ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی تھی۔
امریکہ نے یہ بھی کہا کہ صدر شی نے آبنائے ہرمز کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور وہاں ٹول ٹیکس عائد کرنے کی مخالفت کی ہے، تاہم چین کے سرکاری بیان میں اس حوالے سے کوئی واضح ذکر نہیں کیا گیا۔
ایران کے جوہری پروگرام پر بھی دونوں ممالک کے مؤقف میں فرق نمایاں رہا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے، جبکہ چین نے صرف مذاکرات اور تمام فریقین کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی حل پر زور دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات سے یہ واضح ہوا کہ نہ امریکہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹا اور نہ ہی چین نے ایران کے معاملے پر واشنگٹن کی خواہشات کے مطابق کوئی سخت موقف اپنایا۔
امریکی حکام اگرچہ مسلسل یہ کہتے رہے کہ چین ایران پر اثر و رسوخ رکھتا ہے، لیکن بیجنگ نے محتاط سفارتی پالیسی برقرار رکھتے ہوئے خود کو ثالثی اور مذاکرات کے حامی کے طور پر پیش کیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی چین سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کرے، کیونکہ اس راستے کی بندش نے عالمی توانائی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ تاہم چین نے براہِ راست امریکی مطالبات کی حمایت کرنے کے بجائے صرف سفارتی حل پر زور دیا۔