ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد روک دیا

فہرستِ مضامین

ایران نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں پر عملدرآمد فی الحال معطل کر دیا گیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فوجی کارروائیاں کیں، جس کے باعث معاہدے پر عمل جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری تھے، تاہم اسی دوران امریکا نے ایسے فوجی اقدامات کیے جو ان کے بقول مفاہمتی یادداشت کی روح اور طے شدہ شرائط کے منافی تھے۔

ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق غریب آبادی نے الزام لگایا کہ امریکا نے اپنی تمام ذمہ داریوں سے عملاً دستبرداری اختیار کر لی ہے، جس کے جواب میں ایران نے بھی “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کی اولین ترجیح مذاکرات نہیں بلکہ ملکی دفاع کو یقینی بنانا اور ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی اقدامات سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ فوجی دباؤ کے ذریعے ایران کو اپنے مؤقف سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔

غریب آبادی نے مزید کہا کہ اگر امریکی قیادت دانشمندی کا مظاہرہ کرے تو اسے کشیدگی بڑھانے کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے، تاہم موجودہ حالات میں ایران اپنے دفاع اور جوابی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ مفاہمتی یادداشت کی کون سی مخصوص شقوں پر عملدرآمد معطل کیا گیا ہے، البتہ انہوں نے کہا کہ جاری فوجی کشیدگی کے باعث اس وقت کسی نئی سفارتی پیش رفت کا امکان نظر نہیں آ رہا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی مفاہمت کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا، فوجی کارروائیاں روکنا اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو معمول پر لانا تھا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران کے اندر اپنی فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا ہے، جبکہ ایران بھی خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس صورتحال نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کے امکانات مزید محدود کر دیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق معاہدے پر عملدرآمد معطل ہونے کے بعد ایران اور امریکا کے تعلقات ایک نئے اور زیادہ غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جبکہ مستقبل میں مذاکرات کی بحالی کا انحصار میدانِ جنگ میں کشیدگی کم ہونے اور دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی بحالی پر ہوگا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں