بین الاقوامی: امریکی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک کی سابق اہلیہ جسٹین مسک نے اپنی بیٹی ویویان ولسن کے ٹرانس جینڈر ہونے کے بعد ایلون مسک کے ساتھ اس کے تعلقات اور رویے سے متعلق نئے دعوے کیے ہیں۔
ایلکس گبنی کی نئی دستاویزی فلم ’مسک‘ میں جسٹین نے ایلون مسک کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی اور ان کے بچوں کے حوالے سے گفتگو کی۔ دونوں کی شادی 2000 سے 2008 تک رہی، جبکہ ان کے چھ بچے ہیں۔
جسٹین کے مطابق ویویان کے ٹرانس جینڈر ہونے کے بعد ایلون مسک نے اس کی صحت سے متعلق انشورنس ختم کردی تھی اور بعد میں تعلقات بہتر بنانے کے لیے بھی کوئی نمایاں کوشش نہیں کی۔
جسٹین نے دعویٰ کیا کہ اس کے باوجود ایلون مسک نے اسے کہا تھا کہ ویویان سے کہہ دے کہ وہ ہمیشہ اس سے محبت کرتے رہیں گے۔
دوسری جانب ایلون مسک نے 2024 میں ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جارڈن پیٹرسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنی بیٹی کے ٹرانس جینڈر ہونے پر شدید ردِعمل ظاہر کیا تھا۔ مسک نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ویویان کو کم عمری میں ٹرانس جینڈر سے متعلق طبی علاج کی اجازت دینے کے لیے گمراہ کیا گیا۔
مسک نے یہ بھی کہا تھا کہ بیٹی کے اس فیصلے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ انہوں نے اپنا بیٹا کھو دیا ہے۔
ایلون مسک کے ان بیانات پر ویویان ولسن نے این بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ بچپن میں ان کے والد کے ساتھ ان کا قریبی تعلق نہیں تھا۔ ان کے مطابق مسک ان کے بچپن کے دوران بہت کم وقت ان کے ساتھ موجود رہے۔
ویویان نے بتایا تھا کہ انہوں نے آٹھویں جماعت میں اپنی جنسی شناخت کے حوالے سے والد کو آگاہ کیا تھا۔ ان کے مطابق ان کے طبی علاج میں بلوغت روکنے والی ادویات اور ہارمون تھراپی شامل تھی اور ان کے والد اس علاج کے ممکنہ اثرات سے واقف تھے۔
دوسری جانب جسٹین نے دستاویزی فلم میں ایلون مسک کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی کو بیان کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مسک اکثر انہیں کمتر محسوس کراتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’گیس لائٹنگ‘ کی اصطلاح سے بھی انہیں اپنے سابق شوہر کے ساتھ تعلقات کے دوران ہی واقفیت ہوئی۔
جسٹین کے مطابق شادی کے دوران ایلون مسک مسلسل ان خامیوں کی نشاندہی کرتے تھے جو انہیں جسٹین میں نظر آتی تھیں، جس کے باعث وہ خود کو غیر اہم محسوس کرتی تھیں۔