United Arab Emirates نے خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور آبنائے ہرمز پر دباؤ کے بعد تیل کی برآمدات کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے نئے ویسٹ–ایسٹ پائپ لائن منصوبے کی تعمیر تیز کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مشرقی بندرگاہی شہر Fujairah کے ذریعے تیل برآمد کرنے کی صلاحیت کو دوگنا کرنا ہے تاکہ خلیجی ممالک آبنائے ہرمز پر انحصار کم کر سکیں۔
یہ اعلان ابوظہبی کے ولی عہد Sheikh Khaled bin Mohamed bin Zayed نے ADNOC کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کو عالمی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے، جبکہ حکام کے مطابق یہ پائپ لائن 2027 تک فعال ہو جائے گی۔
اس موقع پر Abu Dhabi National Oil Company کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ کمپنی عالمی منڈی میں ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد توانائی فراہم کنندہ کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنا رہی ہے، اور ضرورت پڑنے پر پیداوار بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
حالیہ مہینوں میں Iran، United States اور Israel کے درمیان کشیدگی اور جنگی صورتحال نے دنیا بھر میں توانائی سپلائی چین کو متاثر کیا۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں، ایران کے نئے بحری ضوابط اور توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد خلیجی ممالک کو متبادل راستے تلاش کرنا پڑ رہے ہیں تاکہ تیل اور گیس کی ترسیل جاری رکھی جا سکے۔
فی الحال یو اے ای کے پاس 380 کلومیٹر طویل “ابوظہبی کروڈ آئل پائپ لائن” موجود ہے، جو حبشان کے آئل فیلڈز سے فجیرہ بندرگاہ تک جاتی ہے۔ یہ پائپ لائن 2012 سے فعال ہے اور روزانہ تقریباً 15 لاکھ بیرل تیل منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم حالیہ کشیدگی کے دوران فجیرہ بھی سیکیورٹی خدشات کی زد میں آ چکا ہے۔
دوسری جانب Saudi Arabia پہلے ہی اپنی مشہور ایسٹ–ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے خلیج کے بجائے بحیرہ احمر کے راستے تیل برآمد کر رہا ہے۔ سعودی آرامکو کے سربراہ Amin Nasser نے اس پائپ لائن کو مملکت کے لیے “اہم لائف لائن” قرار دیا ہے۔
علاقائی صورتحال میں Oman نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہے کیونکہ اس کی ساحلی پٹی آبنائے ہرمز سے باہر تک پھیلی ہوئی ہے، جبکہ Kuwait، Iraq، Qatar اور Bahrain اب بھی بڑی حد تک اسی آبی گزرگاہ پر انحصار کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ ماہ یو اے ای نے Organization of the Petroleum Exporting Countries سے علیحدگی کا اعلان بھی کیا تھا۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ قومی مفادات، طویل المدتی اقتصادی حکمت عملی اور بدلتی ہوئی توانائی پالیسی کے تحت کیا گیا۔