روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے ہیں، جس میں “کثیر قطبی دنیا” اور “بین الاقوامی تعلقات کے نئے نظام” کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے مستقبل میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر معاہدوں کا بھی اعلان کیا۔
یہ اہم ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب چند روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کا دو روزہ دورہ مکمل کرکے واپس گئے تھے، جہاں انہوں نے بھی شی جن پنگ سے ملاقات کی تھی۔
روس اور چین کے درمیان ہونے والی اس سربراہی ملاقات کے بعد بیجنگ اور ماسکو کی جانب سے جاری بیانات میں پانچ اہم نکات نمایاں رہے۔
“کثیر قطبی دنیا” کے قیام پر زور
چینی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں ممالک ایسی دنیا کے قیام کے حامی ہیں جہاں طاقت اور اثر و رسوخ صرف ایک ملک تک محدود نہ ہو بلکہ کئی ممالک میں تقسیم ہو۔
روسی صدارتی معاون یوری اوشاکوف نے اس مشترکہ اعلامیے کو 47 صفحات پر مشتمل پالیسی دستاویز قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق “کثیر قطبی دنیا” سے مراد ایسا عالمی نظام ہے جہاں معاشی، عسکری اور سفارتی طاقت صرف امریکہ جیسے ایک ملک کے بجائے کئی بڑی طاقتوں کے درمیان تقسیم ہو۔
بیجنگ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کی صحافی کترینا یو نے کہا کہ شی جن پنگ ایک ایسے عالمی نظام کی بات کر رہے ہیں جس میں امریکہ کا اثر و رسوخ کم ہو۔
پیوٹن اور شی جن پنگ دونوں اس سے قبل بھی امریکی “یک قطبی غلبے” پر تنقید کر چکے ہیں۔ 2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد پیوٹن نے الزام لگایا تھا کہ امریکہ عالمی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے تنازعات کو ہوا دیتا ہے۔
پیوٹن نے اُس وقت کہا تھا:
“انہیں اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے جنگیں اور تنازعات درکار ہیں، لیکن یک قطبی عالمی نظام کا دور اب اختتام کے قریب ہے۔”
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق حالیہ ملاقات میں شی جن پنگ نے پیوٹن سے کہا کہ “یک طرفہ بالادستی کی لہر دنیا میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔”
روس چین تعلقات “غیر معمولی سطح” پر پہنچ گئے
کریملن کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ روس اور چین کے تعلقات “واقعی غیر معمولی سطح” تک پہنچ چکے ہیں اور مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔
چینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کو امن، ترقی، تعاون اور مشترکہ کامیابی کے اصولوں کے تحت تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔
بیانات کے مطابق روس اور چین کے درمیان تعاون صرف معیشت تک محدود نہیں بلکہ کھیل، تعلیم، میڈیا اور ثقافت سمیت کئی شعبوں تک پھیل چکا ہے۔
کریملن نے یہ بھی بتایا کہ اس سال روسی خبر رساں ادارے تاس (TASS) اور چینی خبر ایجنسی شنہوا (Xinhua) کے درمیان شراکت داری کے 70 برس مکمل ہو رہے ہیں۔
اقتصادی تعاون میں وسعت، امریکی ڈالر سے دوری
کریملن کے مطابق ماسکو اور بیجنگ نے تقریباً 40 بین الحکومتی، ادارہ جاتی اور تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے، جن میں زیادہ تر اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے سے متعلق ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان تجارت تقریباً 240 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چار ماہ میں دوطرفہ تجارت میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔
یوکرین جنگ کے بعد روس چینی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ پر زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس اب امریکی اور یورپی پابندیوں سے بچنے کے لیے زیادہ تر ٹیکنالوجی چین کے ذریعے حاصل کر رہا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے اور روس کی 2030 تک کی ترقیاتی حکمتِ عملی کو ہم آہنگ کریں گے تاکہ مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو نئی سطح تک لے جایا جا سکے۔
کریملن کے مطابق اب روس اور چین کے درمیان تقریباً تمام درآمدی و برآمدی لین دین روبل اور یوآن میں ہو رہا ہے، جس سے دونوں ممالک نے عالمی منڈی کے دباؤ اور بیرونی اثرات سے محفوظ تجارتی نظام قائم کر لیا ہے۔
توانائی کے شعبے میں بڑے منصوبے
کریملن نے بتایا کہ روس اور چین کے درمیان طویل عرصے سے زیر التوا “سائبیریا 2” گیس پائپ لائن منصوبے کے روٹ اور تعمیر کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے، اگرچہ بعض تفصیلات پر مذاکرات جاری ہیں۔
یہ پائپ لائن مکمل ہونے کے بعد ہر سال 50 ارب مکعب میٹر روسی گیس منگولیا کے راستے چین منتقل کرے گی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان توانائی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
کریملن نے کہا کہ روس چین کو تیل، قدرتی گیس، ایل این جی اور کوئلے کا بڑا برآمد کنندہ ہے اور مستقبل میں بھی چین کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار ہے۔
یوکرین جنگ کے بعد یورپی منڈیاں روسی توانائی کے لیے محدود ہو گئی ہیں، جس کے بعد چین روسی تیل اور گیس کا ایک اہم خریدار بن کر سامنے آیا ہے۔
“تعلیم کا سال” اور طلبہ تبادلہ پروگرام
روس اور چین نے تعلیم اور سائنسی تحقیق کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
دونوں ممالک نے طلبہ کے تبادلہ پروگرام، جامعات کے درمیان اشتراک اور مشترکہ سائنسی تحقیق کو فروغ دینے کے لیے اقدامات پر اتفاق کیا، جبکہ اس شراکت داری کو “تعلیم کا سال” قرار دیا جا رہا ہے۔