سوات میں خودکش دھماکہ، حملہ آور کو کس نے روکا؟

فہرستِ مضامین

سوات: خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں واقع پولیس تھانے کے مرکزی گیٹ کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے میں پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 7 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

ڈی آئی جی مالاکنڈ سید فدا حسین کے مطابق خودکش حملہ آور پولیس تھانے کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم گیٹ پر تعینات اہلکاروں نے بروقت اسے روک لیا۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے حملہ آور نے تھانے کے داخلی دروازے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا اور متعدد افراد اس کی زد میں آ گئے۔

حکام کے مطابق دھماکے میں چار پولیس اہلکار بھی شہید ہوئے، جبکہ دیگر شہری اور اہلکار زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ڈی پی او سوات کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور حملہ آور کے ممکنہ سہولت کاروں کی تلاش کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید پولیس اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہادر اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر داخل ہونے سے روک دیا، جس کے باعث ممکنہ طور پر ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے وقت پولیس تھانے کے قریب علاقے میں امن و امان کی صورتحال کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ بھی جاری تھا، جس کے باعث وہاں شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ دھماکے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں زخمی پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو امدادی کارروائیوں کے دوران اسپتال منتقل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو سیل کر کے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ حملے کی نوعیت اور اس کے پس پردہ عناصر کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں