شی جن پنگ اور ولادیمیر پوتن کی بیجنگ میں اہم ملاقات، عالمی نظام پر شدید تنقید

فہرستِ مضامین

چین کے صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان بیجنگ میں اہم مذاکرات ہوئے، یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کا سرکاری دورہ کیا تھا۔

بدھ کے روز بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپلز میں دونوں رہنماؤں کا پرتکلف استقبال کیا گیا۔ سرخ قالین بچھایا گیا جبکہ فوجی بینڈ نے چین اور روس کے قومی ترانے بھی بجائے۔ شی جن پنگ اور ولادیمیر پوتن نے مصافحہ کیا اور بعد ازاں باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہوا۔

ابتدائی گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے چین اور روس کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ روسی میڈیا کے مطابق پوتن نے کہا کہ بیرونی دباؤ اور نامساعد حالات کے باوجود روس اور چین کے اقتصادی تعاون میں غیر معمولی پیش رفت جاری ہے۔

پوتن کا کہنا تھا کہ “نئے دور میں روس اور چین کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری جدید دنیا میں بین الحکومتی تعلقات کی بہترین مثال بن چکی ہے۔”

اس موقع پر شی جن پنگ نے روس اور چین کے تعلقات کو “ناقابلِ شکست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں سیاسی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط کیا ہے۔

چینی صدر نے ایران سے متعلق جاری کشیدگی پر بھی بات کی اور کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو مزید بڑھانا دانشمندی نہیں ہوگی۔ انہوں نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

بعد ازاں کریملن کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ دنیا ایک بار پھر “جنگل کے قانون” کی طرف واپس جا سکتی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بعض ممالک کی جانب سے عالمی معاملات پر یکطرفہ کنٹرول قائم کرنے اور دوسرے ممالک کی خودمختاری محدود کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

توانائی کے شعبے پر بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی۔ پوتن نے توانائی کو روس اور چین کے اقتصادی تعلقات کا “اہم ترین محرک” قرار دیا۔ یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کی پابندیوں کے باعث روس نے اپنی توانائی برآمدات کا بڑا رخ چین کی طرف موڑ دیا ہے، جبکہ چین روسی تیل کا ایک بڑا خریدار بن چکا ہے۔

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان معیشت، سیاحت، تعلیم اور توانائی سمیت تقریباً 40 معاہدوں پر پیش رفت ہوئی، تاہم “پاور آف سائبیریا 2” گیس پائپ لائن منصوبے پر حتمی اتفاق نہ ہو سکا۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق منصوبے کے روٹ پر بنیادی اتفاق موجود ہے، لیکن تعمیر کے لیے ابھی کوئی واضح ٹائم لائن طے نہیں کی گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پوتن کے اس دورۂ چین اور حالیہ امریکی دورے میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔ روسی صدر گزشتہ 25 برسوں سے چین کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں اور وہ شی جن پنگ سے 40 سے زائد ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ روس اور چین مل کر ایک “آزاد اور خودمختار” خارجہ پالیسی اپنائیں گے تاکہ عالمی سطح پر استحکام پیدا کیا جا سکے۔

شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا تیزی سے غیر یقینی صورتحال اور طاقت کے غلبے کی طرف بڑھ رہی ہے، ایسے ماحول میں بیجنگ اور ماسکو کے درمیان سیاسی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون مزید اہم ہو گیا ہے۔

دوسری جانب ولادیمیر پوتن نے کہا کہ روس اور چین ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات، خودمختاری اور قومی اتحاد کے تحفظ کے لیے مشترکہ تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا، “ہم کسی کے خلاف اتحاد نہیں بنا رہے بلکہ عالمی امن اور مشترکہ خوشحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔”

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں