ٹرمپ اور شی جن پنگ کی اہم ملاقات، ایران، تائیوان اور تجارت پر بڑے اشارے

فہرستِ مضامین

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں امریکی صدر Donald Trump اور چینی صدر Xi Jinping کے درمیان ہونے والے اہم سربراہی اجلاس نے عالمی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں، جبکہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے کھلی رہنی چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

بیجنگ کے عظیم ہال آف دی پیپل میں ٹرمپ کا شاندار استقبال کیا گیا، جہاں دو روزہ سربراہی ملاقات کا آغاز ہوا۔ امریکی صدر نے اس ملاقات کو ممکنہ طور پر “تاریخ کا سب سے بڑا اجلاس” قرار دیا۔

اجلاس کے دوران شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان مستحکم تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہیں۔

انہوں نے کہا، “جب چین اور امریکہ تعاون کرتے ہیں تو دونوں فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن تصادم دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔”

اس پر ٹرمپ نے شی جن پنگ کو “طاقتور اور عظیم رہنما” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بات کھل کر کہنے سے نہیں ہچکچاتے۔

تجارت میں پیشرفت، مگر تائیوان پر خطرے کی گھنٹی

چینی حکام کے مطابق امریکی اور چینی اقتصادی ٹیموں کے درمیان ہونے والے مذاکرات مثبت ماحول میں مکمل ہوئے، جن کا مقصد تجارتی کشیدگی کو قابو میں رکھنا اور نئی سرمایہ کاری کے لیے فریم ورک تیار کرنا تھا۔

تاہم شی جن پنگ نے واضح کیا کہ تائیوان کا معاملہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں سب سے حساس نقطہ ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس مسئلے کو غلط انداز میں سنبھالا گیا تو دونوں طاقتوں کے تعلقات خطرناک رخ اختیار کرسکتے ہیں۔

امریکہ مسلسل تائیوان کو دفاعی ہتھیار فراہم کر رہا ہے، جبکہ چین تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے اور بیرونی مداخلت کی سخت مخالفت کرتا ہے۔

ایران، یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ بھی ایجنڈے میں شامل

ملاقات میں ایران، یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور کوریائی جزیرہ نما پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں ممالک نے زراعت، توانائی اور ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی۔

ٹرمپ کے ہمراہ اس دورے میں کئی بڑی امریکی کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں Elon Musk اور Jensen Huang نمایاں ہیں۔ امریکی وفد چین کے ساتھ جاری تجارتی اور ٹیکنالوجی تنازعات میں نرمی چاہتا ہے۔

ٹرمپ نے چینی قیادت پر زور دیا کہ وہ امریکی کمپنیوں اور صنعت کے لیے اپنی مارکیٹ مزید کھولے۔

بدلتی عالمی طاقت اور نئی حقیقت

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی طاقت کا توازن اب پہلے جیسا نہیں رہا۔

2017 میں چین نے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے اربوں ڈالر کی امریکی مصنوعات خریدی تھیں، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ ایران جنگ، مہنگائی اور معاشی دباؤ نے واشنگٹن کی پوزیشن کو متاثر کیا ہے، جبکہ چین اگرچہ اقتصادی مشکلات سے دوچار ہے، لیکن شی جن پنگ کو اندرونی سیاسی سطح پر نسبتاً زیادہ استحکام حاصل ہے۔

امریکہ اور چین ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں؟

واشنگٹن کی خواہش ہے کہ چین امریکی بوئنگ طیارے، زرعی اجناس اور توانائی زیادہ مقدار میں خریدے تاکہ تجارتی خسارہ کم ہوسکے۔

دوسری جانب بیجنگ چاہتا ہے کہ امریکہ سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے۔

ایران پر چین کا محتاط رویہ

صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ چین ایران کو امریکہ کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے پر آمادہ کرے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق بیجنگ تہران پر کھل کر دباؤ ڈالنے سے گریز کرے گا کیونکہ ایران خطے میں چین کا ایک اہم تزویراتی شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔

اسی دوران چین نے ایک بار پھر امریکہ کی جانب سے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں