ٹرمپ کا بیجنگ دورہ ختم، امریکہ اور چین کے تعلقات میں وقتی نرمی مگر بڑے تنازعات برقرار

فہرستِ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روزہ اہم دورۂ بیجنگ مکمل کرنے کے بعد جمعے کو چین سے روانگی اختیار کر لی، تاہم ان کے اس دورے کے اختتام پر بھی امریکہ اور چین کے درمیان موجود بڑے تنازعات مکمل طور پر حل ہوتے نظر نہیں آئے۔ البتہ ایک چیز واضح رہی: ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان تعلقات میں وقتی گرمجوشی ضرور پیدا ہوئی ہے۔

تقریباً ایک دہائی بعد دونوں رہنماؤں کی بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کو دنیا بھر میں خاص اہمیت دی جا رہی تھی، کیونکہ حالیہ برسوں میں امریکہ اور چین کے تعلقات شدید کشیدگی، تجارتی جنگ، تائیوان تنازع اور عالمی طاقت کی رسہ کشی کا شکار رہے ہیں۔

دورے کے دوران ایران جنگ، تائیوان، عالمی تجارت، توانائی، اقتصادی معاہدوں اور خطے کی سکیورٹی سمیت کئی حساس معاملات پر طویل بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ چین نے سفارتی آداب اور پروٹوکول کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا، جسے مبصرین “سافٹ ڈپلومیسی” قرار دے رہے ہیں۔

ٹرمپ نے مذاکرات کے آغاز پر دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک نے کئی ایسے مسائل پر پیش رفت کی ہے جنہیں “کوئی اور حل نہیں کر سکتا تھا”، تاہم انہوں نے ان معاملات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

دنیا بھر میں اس وقت سب سے زیادہ توجہ ایران جنگ پر مرکوز رہی، کیونکہ یہ تنازع عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ امریکی حلقوں کو امید تھی کہ چین، جو ایران کا قریبی سفارتی و اقتصادی اتحادی سمجھا جاتا ہے، تہران پر دباؤ ڈالنے میں کردار ادا کرے گا۔

اگرچہ ٹرمپ نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ شی جن پنگ نے جنگ ختم کرانے میں مدد کی پیشکش کی ہے اور ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے کا یقین دلایا ہے، لیکن دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ واشنگٹن نے باضابطہ طور پر چین سے ایران معاملے پر مدد نہیں مانگی۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز ہر صورت کھلی رہنی چاہیے اور ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ تاہم بیجنگ نے اپنے مؤقف میں کوئی بڑی تبدیلی ظاہر نہیں کی اور ایک بار پھر کہا کہ چین خطے میں امن مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔

دوسری طرف چینی صدر شی جن پنگ نے تائیوان کے معاملے پر انتہائی سخت اور واضح پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ تائیوان امریکہ اور چین کے تعلقات کا “سب سے حساس اور اہم مسئلہ” ہے، اور اگر اسے درست انداز میں نہ سنبھالا گیا تو دونوں ممالک تصادم کی طرف جا سکتے ہیں۔

چین طویل عرصے سے تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا آیا ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال کی دھمکی بھی دے چکا ہے، جبکہ امریکہ تائیوان کے ساتھ غیر رسمی مگر مضبوط تعلقات اور دفاعی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس کے باوجود امریکی حکام نے واضح کیا کہ واشنگٹن کی تائیوان پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مارکو روبیو کے مطابق ملاقات میں دونوں فریقوں نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے اور پھر دیگر معاملات پر گفتگو آگے بڑھ گئی۔

معاشی محاذ پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین نے امریکہ سے بڑے پیمانے پر زرعی مصنوعات خریدنے اور تقریباً 200 بوئنگ طیارے خریدنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق آئندہ تین برسوں میں چین اربوں ڈالر کی امریکی زرعی مصنوعات درآمد کر سکتا ہے، تاہم ان دعوؤں کی تاحال چین کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

بیجنگ نے صرف اتنا کہا ہے کہ دونوں ممالک معیشت، تجارت، زراعت، صحت اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر متفق ہوئے ہیں۔

دورے کے دوران چین نے ٹرمپ کے استقبال کو غیر معمولی اہمیت دی۔ چینی نائب صدر ہان ژینگ خود ایئرپورٹ پر ٹرمپ کے استقبال کے لیے موجود تھے، جبکہ بعد ازاں عظیم عوامی ہال میں فوجی بینڈ، بچوں کی جانب سے پرچم لہرانے اور خصوصی سرکاری ضیافتوں کا اہتمام بھی کیا گیا۔

ٹرمپ نے بھی شی جن پنگ کے اندازِ سیاست اور شخصیت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ “وہ مکمل طور پر کاروباری انداز میں بات کرتے ہیں، غیر ضروری گفتگو نہیں کرتے، اور مجھے یہ بات پسند ہے۔”

سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ اس دورے میں بڑے تنازعات کا کوئی حتمی حل سامنے نہیں آیا، لیکن دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تعلقات کو وقتی استحکام دینے کی کوشش ضرور دکھائی دی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں