ٹرمپ کے دورۂ بیجنگ کے بعد امریکہ اور چین میں نئی معاشی مفاہمت، مگر بڑے اختلافات برقرار

فہرستِ مضامین

امریکی صدر Donald Trump کے تین روزہ دورۂ بیجنگ کے اختتام کے بعد امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات میں وقتی بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں، تاہم دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان کئی اہم معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔ جمعے کو جب صدارتی طیارہ “ایئر فورس ون” بیجنگ سے روانہ ہوا تو یہ واضح نہیں تھا کہ ٹرمپ اور چینی صدر Xi Jinping کے درمیان کن امور پر حتمی اتفاق ہوا ہے۔

ہفتے کے اختتام پر وائٹ ہاؤس اور چینی وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری بیانات نے ملاقات کے نتائج کی کچھ تفصیلات سامنے لائیں۔ دونوں ممالک نے اعلان کیا ہے کہ اقتصادی تعلقات کو منظم رکھنے کے لیے دو نئے ادارے قائم کیے جائیں گے، جنہیں “بورڈ آف ٹریڈ” اور “بورڈ آف انویسٹمنٹ” کا نام دیا گیا ہے۔ ان اداروں کا مقصد تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق تنازعات کو بہتر انداز میں سنبھالنا ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق چین نے 2028 تک ہر سال کم از کم 17 ارب ڈالر کی امریکی زرعی مصنوعات خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس کے علاوہ چین 200 امریکی ساختہ بوئنگ طیاروں کی ابتدائی خریداری بھی کرے گا۔ تاہم بیجنگ نے ان اعداد و شمار کی براہِ راست تصدیق نہیں کی بلکہ صرف اتنا کہا کہ دونوں ممالک زرعی تجارت کو بڑھانے اور امریکی طیاروں کی خریداری کے انتظامات پر متفق ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ اعلانات کسی بڑے تجارتی بریک تھرو کے مترادف نہیں، لیکن اس سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ اپنے تعلقات کو مزید کشیدہ ہونے سے بچانا چاہتے ہیں۔ گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف جنگ نے عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کیا تھا، خصوصاً نایاب معدنیات کی تجارت، جس پر چین کی بڑی اجارہ داری موجود ہے۔

ٹرمپ اور شی جن پنگ نے گزشتہ سال جنوبی کوریا میں ہونے والی ملاقات کے دوران ایک سالہ تجارتی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جبکہ اب دونوں ممالک “تعمیری اور اسٹریٹجک استحکام” پر مبنی تعلقات کی نئی سمت اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال چین کو امریکی زرعی برآمدات صرف 8.4 ارب ڈالر تھیں، لہٰذا 17 ارب ڈالر کی نئی خریداری بڑا اضافہ تصور کی جا رہی ہے۔ اگر سویا بین کی سابقہ خریداری بھی شامل کی جائے تو مجموعی زرعی تجارت تقریباً 27 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔

دوسری جانب ٹیرف میں کمی کا معاملہ اب بھی غیر واضح ہے۔ چینی وزارتِ تجارت نے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک کچھ مصنوعات پر باہمی ٹیرف کم کرنے پر اصولی طور پر متفق ہوئے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے کوئی واضح تفصیل جاری نہیں کی۔ صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ان کی شی جن پنگ سے ٹیرف کے معاملے پر براہِ راست بات نہیں ہوئی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے “بورڈ آف ٹریڈ” کو ایسا باضابطہ فورم قرار دیا جہاں دونوں ممالک ٹیرف، درآمدی پابندیوں، برآمدی کنٹرول اور دیگر تجارتی رکاوٹوں پر بات چیت کریں گے۔ ان کے مطابق یہ ادارہ خاص طور پر غیر حساس اشیاء جیسے زرعی مصنوعات، توانائی، بوئنگ طیارے اور طبی آلات کی تجارت کو مستحکم بنانے میں مدد دے گا۔

دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کا تنازع بھی اب تک برقرار ہے۔ چین طویل عرصے سے امریکہ سے جدید چپ سازی اور ہائی ٹیک مصنوعات پر عائد پابندیاں نرم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن کو نایاب معدنیات اور ان کی سپلائی چین سے متعلق خدشات لاحق ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق چین نے نایاب معدنیات اور ان سے متعلق ٹیکنالوجی کی فراہمی میں امریکی خدشات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تاہم چینی بیان میں اس معاملے کا واضح ذکر نہیں کیا گیا، البتہ بیجنگ نے کہا کہ دونوں ممالک سابقہ مذاکرات کے نتائج پر عملدرآمد جاری رکھیں گے۔

ماہرین کے مطابق حالیہ ملاقات نے امریکہ اور چین کے تعلقات میں وقتی استحکام ضرور پیدا کیا ہے، لیکن تجارت، ٹیکنالوجی اور عالمی اثر و رسوخ کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں