چیک پوسٹ حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ کہاں چھپا تھا؟

فہرستِ مضامین

خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس چیک پوسٹ پر حملے کے مبینہ مرکزی منصوبہ ساز کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ چھپری نریاب کے علاقے میں 15 سے 18 مسلح دہشت گردوں کی موجودگی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد فوری طور پر مشترکہ آپریشن شروع کیا گیا۔ کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک انتہائی مطلوب دہشت گرد مارا گیا، جبکہ دیگر مشتبہ افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا دہشت گرد 29 جولائی کو ہنگو کی خزینہ بانڈہ پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے مہلک حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ تھا، جس کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے سے تلاش تھی۔

یاد رہے کہ مذکورہ حملے میں دہشت گردوں نے پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی سمیت 10 پولیس اہلکار شہید جبکہ 28 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مزید تیز کر دیے تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ فرار ہونے والے دیگر دہشت گردوں کو بھی گرفتار یا ہلاک کیا جا سکے، جبکہ سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کو روکا جا سکے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں