روسی صدارتی دفتر (کریملن) نے اعلان کیا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن 19 مئی کو چین کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے، جو عالمی سفارتی سرگرمیوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کریملن کے مطابق اس دورے کے دوران صدر پوتن کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ سے ہوگی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان “جامع اسٹریٹجک شراکت داری” کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنما عالمی اور علاقائی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے، جبکہ ملاقات کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔
دورے کے دوران صدر پوتن کی چین کے وزیرِاعظم لی چیانگ سے بھی ملاقات طے ہے، جس میں خاص طور پر اقتصادی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے کے امکانات زیرِ بحث آئیں گے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں بیجنگ کا دورہ مکمل کیا ہے، جو تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا پہلا بڑا سفارتی دورہ تھا۔
اگرچہ اس دورے کو اعلیٰ سطحی پذیرائی ملی، تاہم چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی اختلافات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی، خاص طور پر یوکرین جنگ کے تناظر میں، بدستور برقرار ہے۔
ادھر روس-یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششیں بھی تاحال تعطل کا شکار ہیں، جبکہ چین خود کو ایک غیر جانبدار فریق کے طور پر پیش کرتے ہوئے بارہا مذاکرات کی حمایت کرتا رہا ہے۔
چین روس کے مؤقف کے مطابق مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی نے جنگ کو طول دیا ہے، جبکہ بیجنگ یہ بھی مؤقف رکھتا ہے کہ وہ ماسکو کو فوجی ساز و سامان یا پرزے فراہم نہیں کر رہا۔
معاشی سطح پر چین اس وقت روس کے لیے سب سے بڑا توانائی خریدار بن چکا ہے، خصوصاً فوسل فیولز کی خریداری میں اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مغربی پابندیوں کے باعث روسی تیل اور گیس کی عالمی منڈی محدود ہو چکی ہے۔