مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کر گئی ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے اس “اچانک حملے” کو کامیابی سے ناکام بنا دیا۔
اسی دوران امریکہ اور سعودی عرب نے عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کے خلاف مشترکہ فضائی کارروائیاں کیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران کا اردن پر حملہ پہلے ہوا یا عراق میں امریکی اور سعودی حملے اس سے قبل کیے گئے۔
ایران کا دعویٰ، امریکہ کی تصدیق
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے بیان میں کہا کہ اس نے امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔ دونوں ممالک نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ اردن میں کون سے فوجی اڈے یا تنصیبات حملے کا ہدف بنیں۔
عراق میں ایران نواز گروہوں پر حملے
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق، امریکی افواج کے ساتھ مل کر عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں سعودی تیل تنصیبات اور امریکی مفادات پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئیں، جن کا الزام ایران نواز گروہوں پر عائد کیا گیا ہے۔
دوسری جانب عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) نے دعویٰ کیا کہ مشترکہ حملوں میں کم از کم 20 جنگجو ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔ تنظیم کے مطابق بغداد، بصرہ، کرکوک، کربلا، نینوا، واسط اور دیالی سمیت سات صوبوں میں ان کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے صورتِ حال پر غور کے لیے قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا۔
حملوں کی وجہ کیا بنی؟
امریکہ اور سعودی عرب کا کہنا ہے کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران سعودی تیل تنصیبات اور امریکی مفادات پر تقریباً 30 ڈرون حملے عراق سے کیے گئے، جن کی منصوبہ بندی ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کی۔
ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “سنگین غلط فہمی” قرار دیا، جبکہ ایران کے حمایت یافتہ گروپ اسلامک ریزسٹنس ان عراق نے بھی سعودی عرب پر حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ الزامات بے بنیاد ہیں۔
اردن کیوں نشانہ بنا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے فروری میں شروع ہونے والی امریکہ۔اسرائیل جنگ کے بعد خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو مسلسل نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی اپنائی ہوئی ہے۔
اردن میں تقریباً چار ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، جن میں زیادہ تر موافق السلطي ایئر بیس، کنگ فیصل ایئر بیس اور ٹاور 22 جیسے فوجی مراکز پر موجود ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ اردن میں امریکی اہداف پر حملہ امریکی فوج کی “جارحانہ کارروائیوں” کا جواب تھا۔
کیا جنگ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے؟
ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال خطے کو مزید وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اس سے پہلے یمن کے حوثی بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں جبکہ یوکرین نے بھی بحیرہ کیسپین میں ایرانی فوجی سامان لے جانے والے جہازوں پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
سفارتی سطح پر کئی ممالک کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ایران و امریکہ سے حالیہ مفاہمتی معاہدے کی پاسداری کی اپیل کی۔ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
دوسری جانب سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے قطر، کویت اور بحرین کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کے تحفظ اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے بھی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو میں زور دیا کہ موجودہ بحران کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا ہی خطے کے امن کے لیے ضروری ہے۔
ماہرین کی رائے
علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق فی الحال سب سے زیادہ امکان یہی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان محدود جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ خلیجی ممالک کی ثالثی سے سفارتی کوششیں بھی ساتھ ساتھ چلتی رہیں گی۔ تاہم اگر کسی مرحلے پر ایران پر براہِ راست اجتماعی خلیجی فوجی ردعمل سامنے آیا یا حوثیوں نے باب المندب میں حملے مزید بڑھا دیے تو یہ تنازع پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔