ترتیب: اِشفاق احمد
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران امریکی فوجی قیادت میں ایک اور بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں جان فیلن کو ان کے عہدے سے فوری طور پر برطرف کر دیا گیا۔
پینٹاگون نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ کے سیکریٹری جان فیلن اب فوری طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔ ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ فیلن کی خدمات پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے اور ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ برطرفی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ کی بحریہ ایران کے خلاف سخت کارروائیوں میں مصروف ہے، جن میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کے اطراف بھاری بحری موجودگی شامل ہے—یہ وہ اہم گزرگاہ ہے جہاں سے امن کے زمانے میں دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔
اگرچہ برطرفی کی کوئی سرکاری وجہ سامنے نہیں آئی، تاہم رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ اندرونی اختلافات، خاص طور پر وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ کشیدگی کے باعث کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فیلن کو انتظامی مسائل، سست اصلاحات اور ممکنہ اخلاقی تحقیقات کا بھی سامنا تھا۔
جان فیلن کو 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے تعینات کیا گیا تھا، حالانکہ ان کے پاس فوجی یا دفاعی شعبے کا کوئی سابقہ تجربہ نہیں تھا۔ اس سے قبل وہ ایک کاروباری شخصیت اور سرمایہ کاری کے شعبے سے وابستہ تھے اور ریپبلکن پارٹی کے بڑے ڈونر سمجھے جاتے تھے۔
ان کی جگہ عارضی طور پر نائب سیکریٹری ہنگ کاؤ کو قائم مقام سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جو 25 سالہ بحری تجربہ رکھتے ہیں اور ماضی میں سیاست میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔
ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹر جیک ریڈ نے اسے محکمہ دفاع میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور انتظامی کمزوری کی علامت قرار دیا۔
یہ اقدام امریکی فوج میں جاری وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا حصہ ہے، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں خاص طور پر ایران کے ساتھ جنگ کے دوران تیز ہو گئی ہیں۔ اس سے قبل بھی کئی اعلیٰ فوجی افسران کو ہٹایا جا چکا ہے، جن میں آرمی چیف جنرل رینڈی اے جارج شامل ہیں۔
فیلن کی برطرفی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جنگ بندی نازک مرحلے میں ہے اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ حالیہ دنوں میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکی فوج نے ایک ایرانی جہاز کو تحویل میں لے لیا، جس پر ایران نے اسے “سمندری قزاقی” قرار دیا۔ بعد ازاں ایران نے بھی ردعمل میں دو تجارتی جہازوں کو قبضے میں لے لیا اور ایک پر فائرنگ کی۔