ایندھن کی قلت یا عالمی بحران؟ آبنائے ہرمز سے اڑتی ہوئی مہنگی پروازوں کی کہانی

فہرستِ مضامین

یورپ میں موسمِ گرما کی تعطیلات کا وقت قریب آ رہا ہے، جب عام طور پر ہوائی سفر میں تیزی آتی ہے، مگر اس بار صورتحال مختلف رخ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایئرلائنز اپنے شیڈول بدل رہی ہیں، ٹکٹوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور ماہرین ایک ایسے ممکنہ بحران کی نشاندہی کر رہے ہیں جس کی جڑیں خلیج میں واقع آبنائے ہرمز سے جڑی ہوئی ہیں۔

یہ اہم سمندری راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت حساس سمجھا جاتا ہے، اور حالیہ کشیدگی نے نہ صرف تیل بلکہ جیٹ فیول کی فراہمی کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس کا اثر اب یورپ کے فضائی نظام میں واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کے پاس جیٹ فیول کے ذخائر محدود رہ گئے ہیں اور اگر سپلائی میں رکاوٹ جاری رہی تو آئندہ چند ہفتوں میں پروازیں متاثر ہو سکتی ہیں، حتیٰ کہ منسوخی بھی ناگزیر ہو سکتی ہے۔

اعداد و شمار بھی اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں۔ عالمی سطح پر جیٹ فیول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث ایئرلائنز اپنے بڑھتے اخراجات مسافروں پر منتقل کر رہی ہیں۔ نتیجتاً یورپ جانے والے ٹکٹ مہنگے ہو چکے ہیں اور مزید اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر حالات اسی طرح برقرار رہے تو یہ کئی دہائیوں کا بڑا بحران بن سکتا ہے۔ خلیجی خطے سے ایندھن کی ترسیل پہلے ہی متاثر ہو چکی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں مقابلہ بڑھ رہا ہے اور قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔

اس دباؤ کے پیشِ نظر بڑی ایئرلائنز عملی اقدامات بھی کر رہی ہیں۔ لفتھانزا نے موسمِ گرما میں ہزاروں مختصر پروازیں کم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ کے ایل ایم اور سکینڈینیوین ایئرلائن نے بھی اپنے شیڈول محدود کر دیے ہیں۔ بعض یورپی ہوائی اڈوں پر چھوٹے طیاروں کے لیے ایندھن کے استعمال پر پابندیاں بھی لگائی جا رہی ہیں، جس سے پروازوں کا دورانیہ محدود ہو رہا ہے۔

یورپی کمیشن نے اگرچہ فوری بڑے بحران کی تصدیق نہیں کی، تاہم یہ تسلیم کیا ہے کہ مارکیٹ میں دباؤ بڑھ رہا ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ رکن ممالک کے درمیان ایندھن کی تقسیم اور ہنگامی اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

یہ صورتحال ماضی کے کورونا بحران سے مختلف ہے۔ اس وقت مسئلہ مسافروں کی کمی تھا، جبکہ اب اصل چیلنج ایندھن کی دستیابی ہے۔ یعنی جہاز موجود ہیں، مسافر بھی ہیں، مگر پروازوں کا انحصار ایندھن پر آ کر رک گیا ہے۔

اس عالمی تبدیلی کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ یورپ جانے والے کرایوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ کنیکٹنگ فلائٹس، جو عموماً خلیجی ممالک کے ذریعے ہوتی ہیں، زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ مسافروں کو تاخیر، طویل انتظار اور متبادل روٹس جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس سے سفر مزید مہنگا اور وقت طلب بن رہا ہے۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز سمیت دیگر ایئرلائنز کے لیے بھی بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتیں ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہیں، جس کا اثر کرایوں اور شیڈول دونوں پر پڑ سکتا ہے۔

یہ پوری صورتحال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ عالمی معیشت اور ہوا بازی چند اہم جغرافیائی راستوں پر کس قدر انحصار کرتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر ان راستوں میں خلل آئے تو اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ آنے والے ہفتے فیصلہ کن ثابت ہوں گے کہ آیا یہ مسئلہ عارضی ہے یا ایک بڑے عالمی بحران میں تبدیل ہونے والا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں