ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کو امریکہ کی جانب سے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں مذاکرات اور رابطے دوبارہ شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن سفارتی عمل جاری رکھنے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے اور اس سلسلے میں چین سمیت کسی بھی ملک کی مدد کو خوش آمدید کہا جائے گا۔
نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ایران کو امریکی حکام کی جانب سے بار بار یہ پیغامات ملے ہیں کہ وہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔
چین اور دیگر ممالک کے کردار پر ایران کا مؤقف
عراقچی نے کہا کہ ایران ایسے ہر ملک کی کوشش کو سراہتا ہے جو کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے، خاص طور پر چین جیسے اسٹریٹجک شراکت دار۔
انہوں نے کہا کہ بیجنگ کے ساتھ تہران کے تعلقات مضبوط ہیں اور چین کی جانب سے سفارتی مدد کی کسی بھی کوشش کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
پاکستان کی ثالثی اور موجودہ صورتحال
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان ماضی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے، تاہم یہ عمل اس وقت مشکل مرحلے میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل رکاوٹ امریکہ کا رویہ اور دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتا ہوا عدم اعتماد ہے۔
ٹرمپ کے بیانات اور سخت مؤقف
دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہییں۔
ٹرمپ کے مطابق امریکہ اور چین کے درمیان گفتگو میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے جیسے معاملات پر بھی بات ہوئی۔
انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ امریکہ ایران کی جوہری صلاحیت کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور بعض دعووں کے مطابق امریکی کارروائیوں سے ایران کی عسکری صلاحیت کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔
بڑھتی کشیدگی کے ساتھ سفارت کاری کی کوششیں
اگرچہ دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح ہے کہ خطے میں سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور مختلف ممالک اب بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں شامل ہیں۔