ایران اور متحدہ عرب امارات کی کشیدگی کے درمیان خطے کی سیاست بدل گئی۔ وزیراعظم مودی کے دورہِ ابوظہبی نے بھارت اور امارات کے درمیان ایک ایسے دفاعی اور اقتصادی اتحاد کی بنیاد رکھ دی ہے جس کے اثرات دور رس ہوں گے۔
اس شراکت داری کا محور سمندری سیکیورٹی، سائبر ڈیفنس اور انٹیلیجنس شیئرنگ ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف دفاعی صنعت میں تعاون بڑھائے گا بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور مشترکہ فوجی مشقوں کو بھی نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔
فجیرہ پر حالیہ حملوں اور 43 لاکھ بھارتیوں کے تحفظ کے پیشِ نظر، نئی دہلی کے لیے یہ سیکیورٹی اب اولین ترجیح ہے۔ ساتھ ہی، انرجی سیکیورٹی کے لیے فجیرہ میں بھارت کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر قائم کیے جائیں گے تاکہ ایندھن کے بحران کا مقابلہ کیا جا سکے۔
اقتصادی محاذ پر امارات کی 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اس رشتے کو مزید تقویت دے گی۔ دفاع، توانائی اور ٹیکنالوجی کے یہ معاہدے ثابت کرتے ہیں کہ بھارت اور امارات اب محض تجارتی شراکت دار نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے ‘اسٹریٹجک محافظ’ بن چکے ہیں۔