Donald Trump نے چین کے دورے کے اختتام پر تائیوان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کا یکطرفہ آزادی کا اعلان خطے میں خطرناک کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔
یہ بیان انہوں نے Xi Jinping سے بیجنگ میں ہونے والی اہم ملاقات کے بعد دیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے امریکا اور چین کے تعلقات میں موجود تناؤ کم کرنے اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ واشنگٹن نہیں چاہتا کہ تائیوان امریکی حمایت کو بنیاد بنا کر آزادی کی طرف پیش رفت کرے۔ ان کے بقول امریکا کی ترجیح خطے میں استحکام برقرار رکھنا ہے، نہ کہ کسی نئے بحران کو جنم دینا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، جبکہ ان کی خواہش ہے کہ بیجنگ اور تائی پے دونوں کشیدگی کم کرنے کے لیے محتاط رویہ اختیار کریں۔
دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے تائیوان کے مسئلے کو دونوں طاقتوں کے تعلقات کا سب سے حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے کو غلط انداز میں سنبھالا گیا تو امریکا اور چین براہِ راست تصادم کی طرف جا سکتے ہیں۔
چین مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ تائیوان اس کا حصہ ہے اور مستقبل میں اس کا دوبارہ اتحاد بیجنگ کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ اگرچہ چین پرامن حل کی بات کرتا ہے، تاہم طاقت کے استعمال کے امکان کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کرتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ اور شی جن پنگ کے بیانات اس دورۂ بیجنگ کا سب سے اہم پہلو بن گئے ہیں، کیونکہ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں ممالک وقتی طور پر تعلقات میں نرمی لانا چاہتے ہیں، لیکن بنیادی تنازعات اب بھی موجود ہیں۔
امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مقصد زیادہ تر دنیا کو یہ تاثر دینا تھا کہ واشنگٹن اور بیجنگ ایک دوسرے کے ساتھ رابطے بحال رکھنے کے خواہاں ہیں، اگرچہ کئی حساس معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
دورے کے دوران دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے نئے اقتصادی کونسلز قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ ٹرمپ نے ان تجارتی معاہدوں کو “شاندار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ Boeing کے 200 طیاروں کی خریداری کا بڑا معاہدہ طے پایا ہے، جس میں مستقبل میں مزید اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چینی قیادت نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال رکھنے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور ایران کو فوجی سامان کی فراہمی سے گریز کا اشارہ دیا ہے، تاہم چینی حکام نے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
بیجنگ کی جانب سے جاری سرکاری بیان میں صرف خطے میں جنگ بندی، کشیدگی کے خاتمے اور عالمی بحری راستوں کو فوری کھولنے پر زور دیا گیا، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں۔
شی جن پنگ نے ٹرمپ کے دورۂ چین کو “تاریخی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے ایک ایسے تعلق کی بنیاد رکھی ہے جو اسٹریٹجک استحکام پر مبنی ہو سکتا ہے۔
واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے جاسوسی اور سائبر سرگرمیوں سے متعلق سوالات کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا کہ بڑی طاقتیں ایک دوسرے کی نگرانی کرتی رہتی ہیں، اور یہ بین الاقوامی سیاست کا حصہ ہے۔