متحدہ عرب امارات کے باراکا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب ڈرون حملے کے بعد خلیجی خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔
ابوظہبی حکام کے مطابق اتوار کے روز ایک ڈرون حملے کے باعث باراکا جوہری تنصیب کے بیرونی حصے میں موجود بجلی پیدا کرنے والے جنریٹر میں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام نے بتایا کہ کسی جانی نقصان یا تابکاری کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ پلانٹ کے تمام ری ایکٹر معمول کے مطابق کام کرتے رہے۔
باراکا نیوکلیئر پاور پلانٹ عرب جزیرہ نما کا پہلا جوہری بجلی گھر ہے، جو ابوظہبی کے علاقے الظفرہ میں واقع ہے اور یہی متحدہ عرب امارات کا واحد ایٹمی توانائی منصوبہ بھی ہے۔ اس کی تعمیر کا آغاز 2012 میں ہوا تھا جبکہ پہلا ری ایکٹر 2021 میں تجارتی بنیادوں پر فعال ہوا۔
یہ پلانٹ سعودی عرب کی سرحد کے قریب، ابوظہبی شہر سے تقریباً 225 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ یہاں جنوبی کوریا کے تیار کردہ جدید “اے پی آر-1400” پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹر نصب ہیں۔ پلانٹ میں مجموعی طور پر چار ری ایکٹر موجود ہیں، جن میں سے ہر ایک 1400 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو تقریباً 10 لاکھ گھروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔
اماراتی نیوکلیئر انرجی کارپوریشن (ای این ای سی) کے مطابق باراکا پلانٹ سالانہ تقریباً 40 ٹیراواٹ آور بجلی پیدا کرتا ہے، جو متحدہ عرب امارات کی مجموعی بجلی ضروریات کا تقریباً 25 فیصد ہے۔ ادارے کے مطابق اس منصوبے سے ہر سال 22.4 ملین ٹن کاربن اخراج میں کمی آتی ہے، جو سڑکوں سے تقریباً 48 لاکھ گاڑیاں ہٹانے کے برابر تصور کی جاتی ہے۔
اماراتی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ مزید دو ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ڈرون کہاں سے بھیجے گئے تھے۔ دوسری جانب وزارتِ خارجہ نے حملے کو “بلا اشتعال دہشت گرد کارروائی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یو اے ای اپنی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف کسی بھی خطرے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ باراکا جیسے صاف توانائی کے جوہری پلانٹ کو نشانہ بنانا خطرناک اشتعال انگیزی ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کے بیان کو ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جانب اشارہ سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ کسی ملک نے باضابطہ طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
اسی دوران سعودی عرب نے بھی دعویٰ کیا کہ اس نے عراق کی سمت سے آنے والے تین ڈرون مار گرائے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ایرانی ساختہ “شاہد-136” ڈرون استعمال کیے گئے ہوں تو سعودی عرب اور یو اے ای دونوں ان کی رینج میں آتے ہیں۔
حملے کے بعد خطے کے کئی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا۔ سعودی عرب، قطر اور کویت نے باراکا پلانٹ پر حملے کی مذمت کی، جبکہ بھارت نے بھی اسے “خطرناک اشتعال انگیزی” قرار دیتے ہوئے سفارتی حل پر زور دیا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ “وقت تیزی سے گزر رہا ہے، ایران کو فوری قدم اٹھانا ہوگا، ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔”
ایران نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی فوج امریکہ یا اسرائیل کی کسی بھی نئی کارروائی کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی) نے بھی واقعے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے بعد ایک ری ایکٹر کو عارضی طور پر ایمرجنسی ڈیزل جنریٹرز پر منتقل کرنا پڑا۔ ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے خبردار کیا کہ جوہری تنصیبات کے قریب فوجی کارروائیاں ناقابل قبول ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی جوہری پلانٹ کو شدید نقصان پہنچے تو تابکار مواد فضا میں خارج ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف متاثرہ ملک بلکہ پورا خطہ خطرناک آلودگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ایسے اخراج سے پانی، زرعی زمینیں اور سمندری حیات کئی دہائیوں تک متاثر رہ سکتی ہیں، جبکہ انسانی صحت پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، خصوصاً بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے۔