امریکی صدر Donald Trump نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک وسیع معاہدہ “تقریباً طے” پا چکا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے، جس سے کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا، اسلامی جمہوریہ ایران اور دیگر ممالک کے درمیان ایک معاہدہ بڑی حد تک طے پا گیا ہے، تاہم اس کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔
دوسری جانب ایران کی سرکاری حمایت یافتہ خبر رساں ایجنسی “فارس نیوز” نے ٹرمپ کے دعوؤں کو حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بدستور ایرانی کنٹرول میں رہے گی اور کسی بھی نئے فریم ورک میں “مکمل آزادانہ گزرگاہ” شامل نہیں۔
ذرائع کے مطابق زیر غور مفاہمتی یادداشت کے حالیہ مسودوں میں ایران کے ساتھ دشمنی کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے کچھ کو بحال کرنے پر بھی اتفاق رائے پیدا ہو رہا ہے۔
مجوزہ معاہدے کے تحت کم از کم 30 روزہ مزید مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے گا، جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور قریب بہ ہتھیار درجے کی افزودہ یورینیم کے ذخائر جیسے حساس معاملات پر بات چیت جاری رہے گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے کی آخری تفصیلات پر ابھی کام جاری ہے اور امکان ہے کہ بعض نکات میں تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔
امریکی ویب سائٹ “ایکسیوس” کے صحافی باراک راوِڈ کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران ایک ایسے معاہدے کے قریب ہیں جس میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع شامل ہوگی، جسے باہمی رضامندی سے مزید بڑھایا جا سکے گا۔
رپورٹ میں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے گی جبکہ امریکا ایران کو آزادانہ تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے کے لیے بعض پابندیوں میں نرمی کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق مذاکرات بھی اسی دوران جاری رہیں گے، تاہم معاہدہ ابھی حتمی نہیں اور کسی بھی وقت ناکام بھی ہو سکتا ہے۔
فارس نیوز نے واضح کیا کہ ایران نے صرف اتنا قبول کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد جنگ سے پہلے والی سطح تک بحال کی جائے، لیکن اس کا ہرگز مطلب “مکمل آزادانہ آمد و رفت” نہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم Shehbaz Sharif نے اتوار کی صبح ایکس پر صدر ٹرمپ کی “امن کے لیے غیر معمولی کوششوں” کو سراہتے ہوئے مبارکباد دی، تاہم انہوں نے کسی معاہدے یا آبنائے ہرمز کا براہ راست ذکر نہیں کیا۔
شہباز شریف نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے خلیجی ممالک، ترکیہ، مصر، اردن اور پاکستان کی قیادت سے ایک “انتہائی مفید اور مثبت” ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں پاکستان کی نمائندگی آرمی چیف فیلڈ مارشل Asim Munir نے کی۔
انہوں نے کہا کہ اس گفتگو میں خطے کی موجودہ صورتحال اور جاری امن کوششوں کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق علاقائی رہنماؤں نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ مجوزہ فریم ورک کو قبول کریں۔ ایک علاقائی سفارتکار نے سی این این کو بتایا کہ رابطہ “انتہائی مثبت” رہا اور مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہو رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu سے الگ فون پر گفتگو کی، جو ان کے بقول “بہت اچھی” رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کی آخری تفصیلات پر بات جاری ہے اور جلد اعلان متوقع ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کو بھی کھول دیا جائے گا۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق تل ابیب کو خدشہ ہے کہ عبوری معاہدہ صرف جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور پابندیوں میں نرمی تک محدود رہے گا، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم جیسے بنیادی مسائل حل طلب رہ جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کو یقین دہانی کرائی ہے کہ یورینیم کے مسئلے پر اس کے تحفظات کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے ایران مذاکرات پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے محدود سیکیورٹی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
اس سے قبل ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کے امکانات کو “50/50” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا فیصلہ بھی کر سکتا ہے۔
قطر اور پاکستان کی ثالثی میں تہران میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد امریکی اور ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی فریم ورک کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
ٹرمپ نے بتایا کہ وہ اپنے نمائندہ Steve Witkoff اور داماد و مشیر Jared Kushner سے بھی مشاورت کریں گے، جبکہ نائب صدر JD Vance کو ہفتے کے روز وائٹ ہاؤس پہنچتے دیکھا گیا۔
دوسری جانب ٹرمپ کے سابق وزیر خارجہ Mike Pompeo نے مجوزہ معاہدے کو اوباما دور کے معاہدوں سے تشبیہ دیتے ہوئے سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ “امریکا فرسٹ” پالیسی کے بالکل خلاف ہے۔
اس پر وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پومپیو کو “کچھ معلوم نہیں” اور انہیں “حقیقی ماہرین کو کام کرنے دینا چاہیے”۔
ریپبلکن سینیٹرز Roger Wicker اور Lindsey Graham نے بھی ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
لنڈسے گراہم نے خبردار کیا کہ اگر ایران کو خطے میں ایسی طاقت کے طور پر دیکھا جانے لگا جو آبنائے ہرمز کو مستقل دباؤ کے لیے استعمال کر سکتی ہے تو یہ اسرائیل کے لیے “خوفناک خواب” بن سکتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Esmail Baghaei نے تصدیق کی کہ مفاہمتی یادداشت میں 30 اور 60 روزہ مدت شامل ہے، تاہم معاہدہ ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دونوں ممالک کے مؤقف ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں، مگر آئندہ چند روز انتہائی اہم ہوں گے۔
باقائی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی طریقہ کار پر ایران، عمان اور ساحلی ممالک ہی فیصلہ کریں گے، امریکا کا اس سے “کوئی تعلق نہیں”۔
ایران کے چیف مذاکرات کار Mohammad Bagher Ghalibaf نے پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر سے ملاقات کے بعد سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے قومی حقوق سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا، خاص طور پر ایسے فریق کے سامنے جس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹرمپ نے جنگ دوبارہ شروع کرنے کی “غلطی” کی تو ایران کا جواب پہلے دن سے کہیں زیادہ “شدید اور تباہ کن” ہوگا۔