نیتن یاہو کو اقتدار بچانے کے لیے جنگی ماحول درکار ہے: سابق اسرائیلی سفارتکار

فہرستِ مضامین

اسرائیل کے سابق سفارتکار الون پنکاس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو لبنان میں جاری تنازع کو عسکری یا تزویراتی وجوہات کی بجائے اپنے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کے لیے طول دے رہے ہیں۔

الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الون پنکاس نے کہا کہ نیتن یاہو کو اپنی سیاسی بقا اور اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ایک مستقل جنگی ماحول درکار ہے، تاکہ وہ 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کے اثرات سے خود کو دور رکھ سکیں۔

انہوں نے کہا، ’’نیتن یاہو ایک ایسی داستان تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے وہ 7 اکتوبر کی تباہ کن ناکامی سے خود کو الگ دکھا سکیں۔ اس مقصد کے لیے انہیں مسلسل جنگی صورتحال چاہیے، ایک فعال محاذ چاہیے اور انتخابات سے قبل عوام میں جنگ کا ماحول برقرار رکھنا ضروری ہے۔‘‘

پنکاس کے مطابق لبنان اب نیتن یاہو کے لیے واحد ایسا محاذ رہ گیا ہے جہاں وہ اپنی سیاسی حکمتِ عملی کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’ایران کے حوالے سے ان کے پاس زیادہ گنجائش نہیں رہی کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان عملی طور پر جنگ بندی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ غزہ میں بھی ان کے پاس بہت محدود آپشنز موجود ہیں، اس لیے لبنان ہی واحد محاذ بچا ہے۔‘‘

سابق اسرائیلی سفارتکار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرمپ چاہیں تو موجودہ کشیدگی کو روکنے کے لیے کہیں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ان کے بقول، ’’ٹرمپ اس تنازع کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن وہ ایسا کرنے کے بجائے فیصلوں اور پیش رفت کا انحصار ایرانی قیادت پر چھوڑ رہے ہیں، جس سے دو محاذوں پر جاری یہ ناکام جنگ مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔‘‘

الون پنکاس نے ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ انہوں نے حزب اللہ کو کسی معاہدے یا مفاہمت پر آمادہ کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’حقیقت یہ ہے کہ حزب اللہ فی الحال کسی ایسے معاہدے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی۔ مجھے نہیں معلوم ٹرمپ نے کس سے بات کی ہے، لیکن زمینی حقائق اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کوئی بھی فریق اسرائیل کو مؤثر طور پر روکنے یا اس پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتا، جس کے باعث خطہ ایک غیر یقینی اور پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں