قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں سوشل میڈیا سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر تقریباً 3 ہزار 500 پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کرکے پاکستان واپس بھیج دیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزارت خارجہ کی جانب سے ارکان کو آگاہ کیا گیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران متعدد پاکستانی شہریوں نے متحدہ عرب امارات کے سوشل میڈیا ضوابط کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں یو اے ای حکام نے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملک سے بے دخل کر دیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق اماراتی قوانین کی خلاف ورزی پر ملک بدر کیے جانے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد ساڑھے تین ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو میزبان ممالک کے قوانین، خصوصاً سوشل میڈیا اور آن لائن سرگرمیوں سے متعلق ضابطوں کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے تاکہ ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔
ایوان کو یہ بھی بتایا گیا کہ بے دخل کیے گئے پاکستانی شہریوں کی امارات میں موجود جائیدادوں اور مالی اثاثوں کے حوالے سے متعلقہ حکام ورثا اور قانونی حق داروں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔
وزارت خارجہ نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کسی متاثرہ خاندان یا فرد کو جائیداد، اثاثوں یا دیگر قانونی معاملات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا ہو تو وہ وزارت سے رابطہ کرے، حکومت پاکستان اور سفارتی مشنز ہر ممکن معاونت فراہم کریں گے۔
حکام نے اس موقع پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو خبردار کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر مواد شیئر کرتے وقت مقامی قوانین اور ضابطوں کا خاص خیال رکھیں، کیونکہ بعض خلیجی ممالک میں آن لائن سرگرمیوں اور سیاسی نوعیت کے تبصروں سے متعلق قوانین انتہائی سخت ہیں اور ان کی خلاف ورزی پر جرمانوں، قید یا ملک بدری جیسی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق حکومت متاثرہ پاکستانیوں اور ان کے اہل خانہ کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اماراتی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور ضرورت پڑنے پر قونصلر معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔