لبنان میں خونریزی نے امریکہ-ایران مذاکرات خطرے میں ڈال دیے

فہرستِ مضامین

ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ اپنے معاہدے کی پاسداری میں سنجیدہ رویہ اختیار کرے اور اسرائیل کو لبنان میں حملے روکنے کا پابند بنائے۔

الجزیرہ عربی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سعید خطیب زادہ نے کہا کہ ایران مرحلہ وار پیش رفت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ دوسرا فریق بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔

ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات منسوخ کر دیے گئے، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اپنا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا۔

اس سے قبل پاکستان اور قطر سمیت ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کے حکام نے بتایا تھا کہ دونوں فریق برگن اسٹاک میں ملاقات کر کے اس مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت مذاکرات کا آغاز کریں گے جس پر رواں ہفتے امریکہ اور ایران نے دستخط کیے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کی منسوخی کی ایک بڑی وجہ جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان شدید جھڑپیں بنیں۔ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق جمعہ کی صبح سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 47 افراد جاں بحق ہوئے۔

سعید خطیب زادہ نے لبنان پر حالیہ اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اسرائیل کی “مسلسل جنگی کارروائیاں” فوری اور سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران غزہ سمیت تمام محاذوں پر امن کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق لبنان کو مفاہمتی یادداشت میں شامل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہاں کی صورتحال خطے کے وسیع تر تنازع سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق میں واضح طور پر درج ہے کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ تمام محاذوں پر جنگ بندی کے وسیع تر انتظام کا لازمی حصہ ہے۔

خطیب زادہ کا کہنا تھا کہ “لبنان اور پورے خطے میں اس وقت تک پائیدار امن اور استحکام ممکن نہیں جب تک قبضے کا خاتمہ نہ ہو اور اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی پابندی نہ کرے۔”

آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران عمان کے تعاون اور بین الاقوامی قانون کے مطابق جہاز رانی کی خدمات جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ معاہدے میں طے شدہ 60 روزہ مدت کے دوران ایران گزرنے والے جہازوں سے کوئی فیس وصول نہیں کرے گا، تاہم اس کے بعد آبی گزرگاہ کے انتظام کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرایا جائے گا جسے خطے کے ممالک کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل کے کسی بھی معاہدے میں منجمد ایرانی فنڈز کی مکمل بحالی شامل ہونی چاہیے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے سے متعلق ضروری مشاورت ثالث ممالک کے ذریعے جاری ہے اور جب مذاکرات کے آغاز کے لیے تمام شرائط پوری ہو جائیں گی تو باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے لبنان میں جنگ بندی کے سوال پر حزب اللہ کے ایک عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ اگر اسرائیل جنگ بندی کی پاسداری کرے گا تو حزب اللہ بھی اس پر عمل کرے گی۔

ادھر امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یخئیل لیٹر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اسرائیل فوری جنگ بندی کے لیے پرعزم ہے، اور اگر حزب اللہ معاہدے کی پابندی کرتے ہوئے اپنی کارروائیاں روک دیتی ہے تو جواب میں خطے میں سکون قائم رہے گا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں