امریکہ-ایران مذاکرات کی نئی امید، اسٹیو ویٹکوف سوئٹزرلینڈ روانہ

فہرستِ مضامین

امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے کے حوالے سے سفارتی سرگرمیوں میں ایک بار پھر تیزی آ گئی ہے۔ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں، جہاں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مؤخر ہونے والے مذاکرات دوبارہ شروع کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ویٹکوف کا یہ دورہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکی انتظامیہ خطے میں جاری کشیدگی اور دیگر پیچیدگیوں کے باوجود ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے میں سنجیدہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور ہونا تھا، تاہم لبنان میں پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال اور علاقائی تناؤ کے باعث دونوں ممالک نے مذاکرات کو عارضی طور پر مؤخر کر دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کا محتاط مؤقف

اس پیش رفت سے چند گھنٹے قبل وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس فی الحال سوئٹزرلینڈ کا دورہ نہیں کریں گے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ سیکیورٹی اور انتظامی نوعیت کے بعض معاملات کے باعث کیا گیا۔

تاہم واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ مذاکراتی عمل منسوخ نہیں ہوا بلکہ صرف مؤخر کیا گیا ہے، اور جیسے ہی ضروری انتظامات مکمل ہوں گے، ایران کے ساتھ باضابطہ بات چیت کا آغاز کر دیا جائے گا۔

مذاکرات میں کیا زیر بحث آئے گا؟

ذرائع کے مطابق مجوزہ مذاکرات کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینا ہے۔

گفتگو کے دوران ایرانی جوہری پروگرام، بین الاقوامی معائنہ کاروں کی نگرانی، افزودہ یورینیم کے ذخائر، پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور مستقبل کے جامع معاہدے کے خدوخال پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہ کر سکے اور اس کی تمام جوہری سرگرمیاں عالمی قوانین اور نگرانی کے نظام کے تحت رہیں۔

دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی طویل المدتی معاہدے کے بدلے میں اقتصادی پابندیوں میں نمایاں نرمی اور منجمد مالی اثاثوں تک رسائی یقینی بنائی جائے۔

پس پردہ رابطے جاری

اگرچہ مذاکرات کے نئے شیڈول کا باضابطہ اعلان تاحال نہیں کیا گیا، لیکن اسٹیو ویٹکوف کی سوئٹزرلینڈ آمد کو دونوں ممالک کے درمیان جاری پس پردہ سفارت کاری کا اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ مذاکرات حالیہ امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت کا پہلا عملی امتحان ہوں گے۔ اگر دونوں فریق تکنیکی اور سیاسی اختلافات کم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو مستقبل میں ایک جامع جوہری اور اقتصادی معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

فیصلہ کن ہفتے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے چند ہفتے امریکہ اور ایران تعلقات کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اور متعدد اختلافات بدستور موجود ہیں، تاہم جاری سفارتی رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فریقین تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسٹیو ویٹکوف کی سوئٹزرلینڈ روانگی کو اسی وسیع سفارتی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو دوبارہ متحرک کرنا اور ممکنہ معاہدے کے لیے مشترکہ بنیاد تلاش کرنا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں