تحریر: محسن خاصخیلی
کراچی کے علاقے لیاری میں جب میں نے قدم رکھا تو دل میں کئی وسوسے، خدشات، پریشانی، خوف اور دہشت ذہن پر چھائی ہوئی تھی کیونکہ جب میں اپنے شہر مانجھند میں ہوتا تھا تو اس وقت ٹی وی اور اخبارات میں لیاری کے مناظر کچھ ایسے دکھائے جاتے تھے جہاں موت کا کھیل روز کا معمول سمجھا جاتا تھا۔ مجھے کبھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ وقت بدلے گا اور میں کراچی آؤں گا، صحافت کروں گا اور پھر اسی علاقے میں اسپورٹس پر اسٹوری کرنے کی اسائنمنٹ ملے گی، جو کھیلوں کا ایک اہم مرکز ہے۔
میں ڈبلیو ٹی این ادارے کا شکر گزار ہوں جس نے مانجھند جیسے پسماندہ علاقے سے آنے والے ایک نوجوان کو کراچی کے دل میں رپورٹنگ کا موقع دیا۔ کراچی پہنچا تو لیاری کے بارے میں دوستوں سے معلومات حاصل ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لیاری ماضی میں گینگ وار کا مرکز رہا ہے۔ ارشد پپو، رحمان ڈکیت، عزیر بلوچ اور کئی دیگر نام اس علاقے سے جڑے رہے ہیں۔ لیکن یہ صرف ایک پہلو تھا، اصل چہرہ تو تب دیکھا جب ادارے کی طرف سے مجھے ککری گراؤنڈ پر اسائنمنٹ ملی اور میں لیاری جانے لگا۔
دل میں خوف تھا، مگر جب لیاری پہنچا تو آنکھوں نے جو منظر دیکھا وہ میری سوچ سے بالکل مختلف تھا۔ ہر طرف فٹبال کے میدان، کھیلتے ہوئے لڑکے اور لڑکیاں، اور نوجوانوں کا جوش تھا۔ جیسے جیسے میں نے مزید جانا تو معلوم ہوا کہ لیاری میں سندھ بھر کا بڑا ٹیلنٹ موجود ہے۔
لیاری میں لڑکیوں کو فٹبال کی کوچنگ دینے والے کوچ زبیر فیض نے بتایا کہ وہ بھی ککری گراؤنڈ میں بچپن میں فٹبال سیکھتے رہے اور محنت و جدوجہد سے انہوں نے اس کھیل میں اپنا نام بنایا۔ آج وہ لیاری کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو فٹبال کی تربیت دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیاری کے لوگوں کی قربانیوں کے بدلے انہیں ککری گراؤنڈ ملا ہے جہاں آج نوجوان نہ صرف فٹبال بلکہ دیگر کھیلوں کی تربیت بھی حاصل کرتے ہیں اور اپنی صحت بہتر بنانے کے لیے جم کا بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔
فٹبال کی تربیت حاصل کرنے والی لڑکی مہر نے بتایا کہ لیاری سے تعلق رکھنے والی سطائش اور نمرا نامی کھلاڑی ناروی میں فٹبال کھیلنے گئی ہیں۔ ان سے پہلے بھی کئی لڑکیاں بین الاقوامی سطح پر فٹبال کھیل چکی ہیں۔
ایک بزرگ فٹبال کھلاڑی مولا بخش بلوچ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی جوانی میں شہید بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی شادی اپنی آنکھوں سے ککری گراؤنڈ میں دیکھی تھی۔ اس وقت یہ گراؤنڈ مٹی کا ڈھیر ہوتا تھا، لیکن اب سندھ حکومت نے اسے عالمی معیار کا گراؤنڈ بنا دیا ہے۔
ایک بزرگ فٹبال ریفری ماماجاوید کارلو نے بتایا کہ جب وہ ککری گراؤنڈ میں کھیلتے تھے تو مٹی لگنے سے ان کے کپڑے خراب ہو جاتے تھے اور گھر والے ان پر ناراض ہوتے تھے۔ اگر اس وقت ایسے گراؤنڈ ہوتے تو شاید لیاری کے کھلاڑی ورلڈ کپ تک پہنچ جاتے، لیکن اب بھی نوجوان محنت کر رہے ہیں اور وقت دور نہیں کہ لیاری فٹبال میں عالمی سطح پر اپنا نام بنائے گا۔
لیاری نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں فٹبال کا گھر سمجھا جاتا ہے۔ اسے “منی برازیل” کا لقب بھی دیا گیا ہے۔ یہاں سے کئی عظیم فٹبالر پیدا ہوئے جنہوں نے پاکستان کی فٹبال ٹیم کا نام روشن کیا۔ سب سے متاثر کن بات یہ ہے کہ اس علاقے کی لڑکیاں روایتی رکاوٹوں کو عبور کر کے اپنا نام بنا رہی ہیں۔
فٹبال، کراٹے، ریسلنگ، باکسنگ اور دیگر کھیل یہاں کے نوجوانوں کا پسندیدہ مشغلہ رہے ہیں، لیکن اب لڑکیاں بھی اپنی صلاحیتوں سے دنیا کو متاثر کر رہی ہیں۔ لیاری کی لڑکیاں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر گولڈ میڈل اور دیگر تمغے حاصل کر رہی ہیں۔ کچھ لڑکیاں ناروے، ملائیشیا اور دیگر ممالک میں پاکستان کا پرچم بھی لہرا چکی ہیں۔ وہ روزانہ تعلیم کے ساتھ ساتھ فٹبال کی تربیت بھی حاصل کرتی ہیں اور ان کا عزم و حوصلہ دیکھ کر لگتا ہے کہ لیاری کا مستقبل روشن ہے۔
ککری گراؤنڈ، جو لیاری کا دل ہے، ماضی میں مٹی کا ڈھیر تھا مگر تاریخی اہمیت رکھتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے جلسے، شہید بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی شادی کی تقریبات بھی اسی گراؤنڈ میں ہوئیں۔ سندھ حکومت نے اس تاریخی جگہ کو مزید خوبصورت بنا دیا ہے اور اب یہ جدید سہولیات سے آراستہ ہے۔ شام کے وقت بچے، نوجوان اور بزرگ سب یہاں اکٹھے ہو کر کھیلتے، ورزش کرتے اور اپنی صحت بہتر بناتے ہیں۔
لیاری میں تبدیلی کا سفر آسان نہیں تھا۔ گینگ وار کی وجہ سے علاقے کا نام خراب ہوا، مگر حکومتی آپریشن اور سیکیورٹی فورسز کی کوششوں سے امن قائم ہوا۔ اب یہاں کھیل، تعلیم اور نوجوانوں کی مثبت سرگرمیاں عام ہیں۔ “رائٹ ٹو پلے” جیسے پروگرام لڑکوں اور لڑکیوں کو فٹبال کے ذریعے اعتماد اور قیادت سکھا رہے ہیں۔
لیاری کا موجودہ چہرہ امید کا پیغام ہے۔ یہاں کے لوگ محنتی، پرجوش اور باصلاحیت ہیں۔ فٹبال کی گلیاں، باکسنگ کی رونقیں اور لڑکیوں کا عزم دیکھ کر لگتا ہے کہ لیاری پاکستان کا فخر بن رہا ہے۔
مانجھند سے آنے والے ایک صحافی کی نظر میں لیاری اب خوف نہیں بلکہ امید اور ٹیلنٹ کا مرکز ہے۔ وقت کا یہ بدلاؤ واقعی حیرت انگیز ہے۔ جہاں کبھی موت کی کہانیاں سنائی جاتی تھیں، وہاں اب کامیابی کے گیت گائے جا رہے ہیں۔ لیاری کا مستقبل روشن ہے اور اس کی نوجوان نسل کو اپنی صلاحیتوں سے ملک اور دنیا کو متاثر کرنا ہے۔