‘یہ کشمیر ہے، کشمور نہیں’— سیاسی جنگ پھر بھڑک اٹھی

فہرستِ مضامین

مظفرآباد: آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج سامنے آتے ہی وفاقی اتحادی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی ایک بار پھر آمنے سامنے آگئیں۔ انتخابی نتائج پر اختلاف نے دونوں جماعتوں کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کو کھلی لفظی جنگ میں تبدیل کردیا۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابی عمل کے دوران پولنگ اسٹیشنوں پر حملے، انٹرنیٹ بندش اور نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوششیں کی گئیں۔ بلاول کا کہنا تھا کہ “ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ قومی مفاد کے ساتھ کھڑی ہے یا کسی ایک سیاسی جماعت کے مفاد کے ساتھ۔” انہوں نے انتخابی عمل کی تحقیقات کے لیے آزاد انکوائری کمیشن قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

دوسری جانب پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے بلاول بھٹو کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے عوام نے اپنا فیصلہ ووٹ کے ذریعے دیا ہے، اس لیے پیپلزپارٹی کو نتائج تسلیم کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق شکست کے بعد دھاندلی کا الزام لگانا جمہوری روایت نہیں۔

مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ اگر پیپلزپارٹی گلگت بلتستان میں اپنی کامیابی کو عوامی مینڈیٹ قرار دیتی ہے تو کشمیر کے نتائج پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سندھ میں پیپلزپارٹی کی طویل حکمرانی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کی کارکردگی کو عوام کے سامنے بطور مثال پیش نہیں کیا جا سکا۔

بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مریم نواز نے کہا، “جو جماعت خود دھاندلی کی باریک وارداتوں کی ماہر سمجھی جاتی ہے، آج وہی دھاندلی کا شور مچا رہی ہے۔”

انتخابی مہم سے شروع ہونے والی کشیدگی

دونوں جماعتوں کے درمیان تلخی صرف نتائج کے بعد سامنے نہیں آئی بلکہ انتخابی مہم کے دوران بھی سخت بیانات کا تبادلہ ہوتا رہا۔ نواز شریف کے “یہ کشمیر ہے، کشمور نہیں” والے بیان پر بلاول بھٹو نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ “کشمیر ہو یا کشمور، ہر جگہ عوام اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔” اس کے بعد ترقیاتی منصوبوں، انتخابی ضابطہ اخلاق اور سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتی رہیں۔

نتائج نے تنازع مزید بڑھا دیا

27 جولائی کو میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابات میں غیرحتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے 9 جبکہ پیپلزپارٹی نے 4 نشستیں حاصل کیں۔ پیپلزپارٹی نے نتائج پر اعتراض اٹھاتے ہوئے انتخابی شفافیت پر سوالات کھڑے کیے، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں شکست کے بعد کی سیاسی حکمت عملی قرار دیا۔

اتحادی حکومت پر کیا اثر پڑے گا؟

سیاسی مبصرین کے مطابق سخت بیانات کے باوجود دونوں جماعتوں کے وفاقی اتحاد کو فوری خطرہ لاحق نہیں، کیونکہ موجودہ پارلیمانی نظام میں دونوں ایک دوسرے کی سیاسی ضرورت بھی ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ لفظی جنگ مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف وفاقی اتحاد بلکہ آئندہ سیاسی ماحول پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں