عمران خان ریلیز فورس کیوں نہ بن سکی؟

فہرستِ مضامین

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مجوزہ “عمران خان ریلیز فورس” سے متعلق ایک نئی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ اگرچہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آئینی عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ایسی کوئی فورس کبھی وجود میں نہیں آئی، تاہم پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر سنجیدگی سے غور ضرور کیا گیا تھا، لیکن اسے باضابطہ منظوری نہ مل سکی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس فورس کے قیام کے حامی تھے اور ان کا منصوبہ تھا کہ عمران خان کی رہائی کی مہم کے لیے رضاکاروں کی رجسٹریشن کی جائے، انہیں منظم کیا جائے اور باقاعدہ حلف بھی لیا جائے۔

تاہم، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی ایسی تنظیم یا فورس قانونی اور آئینی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر اس منصوبے کو عملی شکل دی گئی تو پی ٹی آئی کو سنگین قانونی مسائل اور غیر ضروری الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین کی مخالفت کے بعد نہ صرف اس فورس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا بلکہ منصوبہ مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔

حکمت عملی میں تبدیلی

اندرونی مشاورت کے بعد پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا کہ کسی مخصوص فورس کے بجائے ایک وسیع عوامی اور سیاسی تحریک چلائی جائے گی، جس میں ہر کارکن اور حامی شریک ہو سکے گا۔ اس نئی حکمت عملی میں رجسٹریشن، حلف برداری یا کسی متوازی تنظیمی ڈھانچے کی تجویز کو ختم کر دیا گیا تاکہ پارٹی کی سرگرمیاں آئینی اور جمہوری دائرے میں رہیں۔

احتجاجی فیصلوں کا نیا طریقہ کار

ذرائع کے مطابق پارٹی نے مستقبل میں احتجاج یا تحریک کے آغاز سے متعلق اختیار بھی صرف خیبرپختونخوا حکومت تک محدود نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ایسے فیصلے اپوزیشن اتحاد سے مشاورت کے بعد کیے جائیں گے، جس کی قیادت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں۔

پارٹی میں کس کی رائے غالب رہی؟

سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو پی ٹی آئی کے اندر نسبتاً معتدل مؤقف رکھنے والی قیادت کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق “عمران خان ریلیز فورس” کا منصوبہ ترک کیے جانے سے یہ تاثر ملا کہ پارٹی نے زیادہ جارحانہ حکمت عملی کے بجائے قانونی اور سیاسی راستہ اختیار کرنے کو ترجیح دی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں