“موجودہ نظام ناکام ہو چکا”، وزیر داخلہ کا اعتراف

فہرستِ مضامین

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک میں گورننس کے نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ اپنی افادیت کھو چکا ہے اور مسائل کے پائیدار حل کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وہ عموماً سیاسی گفتگو سے گریز کرتے ہیں، تاہم آج کچھ بنیادی حقائق بیان کرنا ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں رہتے ہوئے عوامی مسائل حل نہیں ہو پا رہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ کئی برسوں تک بھی انہی مسائل پر بحث جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نکلنے کے لیے بنیادی اصلاحات ضروری ہیں، اور اس مقصد کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ محسن نقوی کے مطابق اس معاملے پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے نوجوانوں کی بے چینی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل میرٹ، روزگار اور بہتر مواقع کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نوجوان منظم ہو جائیں تو بڑی تبدیلیاں لا سکتے ہیں، اس لیے ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

محسن نقوی نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلسل قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے اور ہر سال مالی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق جب تک نظام میں جامع اصلاحات اور معاشی ڈھانچے کی ازسرِ نو ترتیب نہیں کی جاتی، دیرپا بہتری ممکن نہیں۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی محنت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم طویل اوقات تک کام کر رہے ہیں، تاہم موجودہ حالات میں حکومت زیادہ تر فوری مسائل سے نمٹنے میں مصروف ہے، جبکہ اصل ضرورت بنیادی اصلاحات کی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں