حماس کے سینئر رہنما ڈاکٹر غازی حمد نے انکشاف کیا ہے کہ مجوزہ جامع امن معاہدہ مختلف فلسطینی دھڑوں سے مشاورت کے بعد طے پایا، جس کا بنیادی مقصد غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ اور انسانی بحران سے متاثرہ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
العربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حماس نے موجودہ حالات کے پیش نظر سیاسی لچک کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم تحریک اپنے قومی مؤقف اور فلسطینی عوام کے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگی۔
غازی حمد کے مطابق معاہدہ کسی ایک جماعت کا فیصلہ نہیں بلکہ مختلف فلسطینی قوتوں کے درمیان اتفاقِ رائے کا نتیجہ ہے، تاکہ امن عمل کو مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حماس کے ہتھیار فوری یا یکطرفہ طور پر نہیں دیے جائیں گے بلکہ اس معاملے کا انحصار معاہدے پر تمام فریقوں کے مکمل عمل درآمد پر ہوگا۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے مرحلہ وار ٹائم لائن اور ایک بین الاقوامی نگرانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو معاہدے کی ہر شق پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گی۔
حماس رہنما نے یہ بھی کہا کہ مجوزہ معاہدے میں تحریک کو ختم کرنے یا تحلیل کرنے کی کوئی شق شامل نہیں، اور حماس مستقبل میں بھی ایک سیاسی قوت کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ کے انتظامی امور کسی آزاد قومی یا ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کرنا پہلے سے پیش کی جانے والی تجاویز کا تسلسل ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ معاہدے میں اسرائیلی افواج کے غزہ سے مکمل انخلا کا اصولی ذکر موجود ہے، تاہم اس کی حتمی ٹائم لائن پر بات چیت جاری ہے۔ اسی طرح غزہ میں ممکنہ بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی سے متعلق تفصیلات بھی ابھی زیرِ غور ہیں۔
واضح رہے کہ مجوزہ امن معاہدے میں جنگ بندی، غزہ کا انتظام آزاد قومی کمیٹی کے سپرد کرنے، تعمیرِ نو کے آغاز، بین الاقوامی نگرانی اور سیکیورٹی سے متعلق متعدد نکات شامل ہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے اب تک اس معاہدے کی باضابطہ منظوری سامنے نہیں آئی، جبکہ ثالثی مذاکرات بدستور جاری ہیں۔