امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف مجوزہ فوجی کارروائی آخری لمحے پر روک دی، کیونکہ تہران اور مشرقِ وسطیٰ کے چند دیگر ممالک نے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کا موقع دینے کی درخواست کی تھی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی فوج ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کے لیے مکمل طور پر تیار تھی اور تمام عسکری تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں۔ ان کے بقول امریکی افواج کی تیاری دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر تھی، تاہم انہوں نے امن کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران سمیت خطے کے بعض ممالک نے واشنگٹن سے حملہ مؤخر کرنے کی اپیل کی، کیونکہ ایک ابتدائی سفارتی فریم ورک پر پیش رفت ہوئی ہے، جس سے موجودہ بحران کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ زیر غور معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے اور ایران کے مبینہ جوہری پروگرام سے متعلق خدشات دور کرنے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ ان کے مطابق حملہ روکنے کا فیصلہ عالمی استحکام، خطے میں امن اور ایران کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا، تاہم یہ پیش رفت جلد حتمی معاہدہ طے پانے سے مشروط ہے۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسرائیل نے بھی اس سفارتی عمل کی حمایت کا عندیہ دیا ہے اور تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ مذاکرات کو جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مشترکہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور صرف صدر ٹرمپ کی حتمی منظوری کا انتظار تھا۔
دوسری جانب خطے میں سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ سعودی عرب، قطر، ترکیہ، پاکستان، قطر اور سلطنتِ عمان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے بڑھا دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عمان اور قطر کے ثالث دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بحال کرانے اور آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم اب تک کسی باضابطہ معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے کسی نئی فوجی کارروائی کی تو ایران اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
آبنائے ہرمز اس وقت بحران کا سب سے اہم مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ اسی بحری گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کر سکتی ہیں بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی استحکام لانے کا باعث بن سکتی ہیں۔