ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت اور جنگ کے ابتدائی لمحات سے متعلق پہلی بار اہم اندرونی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کی موت کی تصدیق حملے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد ہی ہو گئی تھی، تاہم اس خبر کو فوری طور پر عوام کے سامنے لانے کے بجائے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
پارلیمنٹ کی کوآرڈینیشن کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قالیباف نے بتایا کہ 28 فروری کو خامنہ ای کی رہائش گاہ پر بمباری کے فوراً بعد اعلیٰ حکام کو ان کی ہلاکت کا یقین ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق علی لاریجانی سے مشاورت کے بعد طے پایا کہ سرکاری اعلان اگلی صبح کیا جائے تاکہ حالات کو منظم انداز میں سنبھالا جا سکے۔
خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق قالیباف نے بتایا کہ ملک کی اعلیٰ قیادت کو جمع کرنے اور آئینی تقاضے پورے کرنے میں وقت لگا، جس کے باعث فیصلہ کیا گیا کہ صبح باضابطہ اعلان کے ساتھ عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل بھی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی منصوبے کے مطابق متعلقہ اداروں کو صبح سویرے اجلاس منعقد کر کے قانونی اور انتظامی کارروائی مکمل کرنا تھی، جس کے بعد صبح آٹھ بجے خامنہ ای کی ہلاکت کا باضابطہ اعلان کیا جانا تھا۔
تاہم قالیباف کے مطابق منصوبہ اس وقت بدلنا پڑا جب غیر ملکی میڈیا نے سرکاری اعلان سے پہلے ہی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبریں نشر کرنا شروع کر دیں۔ اس غیر متوقع صورتحال کے بعد انہوں نے علی لاریجانی سے فوری رابطہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ خبر فجر کے وقت ہی جاری کر دی جائے تاکہ افواہوں اور ممکنہ افراتفری پر قابو پایا جا سکے۔
قالیباف کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت فوری فیصلہ نہ کیا جاتا تو ملک میں حالات قابو سے باہر جا سکتے تھے اور سڑکوں پر صورتحال مختلف رخ اختیار کر سکتی تھی۔
واضح رہے کہ 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے جنگ کے آغاز پر تہران میں حساس عسکری اور کمانڈ مراکز پر فضائی حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں خامنہ ای کی رہائش گاہ سمیت پاسدارانِ انقلاب کے متعدد کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
ایرانی حکومت نے یکم مارچ کو سرکاری طور پر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ حکام کے مطابق حملے میں ان کے خاندان کے چند افراد کے علاوہ متعدد اعلیٰ فوجی اور سکیورٹی عہدیدار بھی جان کی بازی ہار گئے تھے۔