نئی دہلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کے دوران نعرے بازی اور سخت زبان استعمال کرنے والے مظاہرین کو معاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نوجوان “گمراہ بچے” ہیں جنہیں سزا دینے کے بجائے درست راستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں نریندر مودی نے کہا کہ جنتر منتر پر پیش آنے والے واقعات صرف بھارت ہی نہیں بلکہ پوری دنیا نے دیکھے۔ ان کے بقول احتجاج میں شامل بعض افراد نے نہ صرف انہیں بلکہ ان کی مرحومہ والدہ کو بھی نامناسب الفاظ کا نشانہ بنایا، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے شایانِ شان نہیں۔
مودی نے کہا کہ بچپن اور نوجوانی میں انسان سے غلطیاں ہو جاتی ہیں، لیکن یہی وہ عمر ہوتی ہے جب سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے کا موقع بھی ملتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک کی بیٹیاں ایسی زبان کیسے استعمال کر سکتی ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہیں مسترد کرنے کے بجائے پیار سے سمجھانے اور صحیح سمت دکھانے کی ضرورت ہے۔
بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ان نوجوانوں کو عدالتوں اور قانونی کارروائیوں میں الجھانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ معاشرے کو انہیں اپنانا اور مثبت رہنمائی فراہم کرنی چاہیے۔
اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے مودی نے ایک مثال بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ جیسے کبھی غلطی سے زبان دانتوں کے نیچے آ جاتی ہے اور خون نکل آتا ہے، لیکن اس پر کوئی اپنے دانت نہیں توڑ دیتا، اسی طرح یہ نوجوان بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور ان کے ساتھ بھی برداشت اور شفقت کا رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
آخر میں نریندر مودی نے احتجاج میں شریک نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ اختلافات کو پیچھے چھوڑ کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں، نئی چیزیں سیکھیں، اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلیں اور بھارت کی ترقی کے سفر میں ساتھ چلیں۔ ان کے مطابق ملک تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان بھی اسی سفر کا حصہ بنیں۔