دنیا کا سب سے اہم سمندری راستہ دوبارہ کھلنے والا ہے؟

فہرستِ مضامین

امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات میں دونوں ممالک کی توجہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی پر مرکوز ہوگی۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کے ابتدائی ایجنڈے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے بین الاقوامی جہاز رانی کی بحالی، ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی پابندیوں میں نرمی اور سمندری تجارتی راستوں کو دوبارہ فعال بنانے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک خطے میں جاری عسکری کارروائیوں کے خاتمے پر بھی بات کریں گے۔ اس حوالے سے عراق میں ایران سے وابستہ مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور دیگر حملوں کو روکنے کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی تیل برآمدات کو دوبارہ معمول پر لانے اور عالمی منڈی تک بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرنے کا معاملہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہوگا۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ کے وہ ممالک جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کر رہے ہیں، آئندہ دنوں میں سفارتی رابطے مزید تیز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ دونوں فریقوں کو کسی مشترکہ معاہدے کے قریب لایا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران 18 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بنیادی نکات کو دوبارہ بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اعلان کر چکے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان 3 اگست سے امن مذاکرات شروع ہوں گے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بتایا تھا کہ انہوں نے ایران پر ممکنہ بڑے حملے کا فیصلہ اس لیے واپس لیا تاکہ سفارتی حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔

ٹرمپ کے مطابق امریکہ کے اتحادی ممالک اور ایران دونوں نے واشنگٹن سے فوجی کارروائی روکنے کی درخواست کی تھی کیونکہ ممکنہ معاہدے کے اہم نکات پر ابتدائی اتفاق رائے پیدا ہو چکا تھا۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحال کرنا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کا خاتمہ بنیادی شرائط ہوں گی۔

یاد رہے کہ رواں برس فروری کے آخر میں اسرائیل کے ساتھ ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران ٹرمپ نے کئی مرتبہ سخت مؤقف اختیار کیا تھا، تاہم بعد ازاں مذاکرات کو موقع دینے کے لیے انہوں نے اپنی پالیسی میں لچک دکھائی۔

حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں عالمی جہاز رانی شدید متاثر ہوئی، حالانکہ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔ اس تعطل کے نتیجے میں عالمی توانائی کی قیمتیں بڑھیں اور کئی ممالک میں مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا امریکی پالیسی کی اولین ترجیح ہے، تاہم بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں اور عالمی معاشی دباؤ کے پیش نظر سفارتی حل تلاش کرنا بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں