خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں کبل پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ پولیس حکام کے مطابق حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت 14 افراد جاں بحق جبکہ 25 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق خودکش حملہ آور نے پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم داخلی راستے پر ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے کی شدت سے پولیس اسٹیشن کی عمارت کو بھی جزوی نقصان پہنچا اور اطراف میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے کے فوراً بعد ریسکیو اور پولیس ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ تمام جاں بحق افراد اور زخمیوں کو فوری طور پر سنٹرل ہسپتال سوات منتقل کیا گیا، جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
تحقیقات کا آغاز، سرچ آپریشن جاری
دھماکے کے بعد ڈی پی او سوات محمد عمر خان کی قیادت میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ خودکش تھا۔ جائے وقوعہ سے حملہ آور کا سر بھی برآمد ہوا ہے، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے میں استعمال ہونے والے بارودی مواد کا فرانزک جائزہ لے رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد حملہ آور کے افغان شہری ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی مؤقف تحقیقات مکمل ہونے اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی اختیار کیا جائے گا۔
ڈی پی او سوات محمد عمر خان نے کہا کہ حملے میں ملوث عناصر اور ان کے ممکنہ سہولت کاروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے اور ذمہ داروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
قومی قیادت کی مذمت
وزیراعظم شہباز شریف نے کبل پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی حملے کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ امن دشمن عناصر کو اپنے ناپاک عزائم میں ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
ادھر جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے ترجمان نے بھی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لیے دعائے مغفرت، زخمیوں کے لیے فوری علاج اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا۔