تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے سابق پاسداران انقلاب کمانڈر اور اپنے سینئر مشیر محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا نمائندہ مقرر کردیا ہے۔
ایرانی میڈیا اور عرب ذرائع کے مطابق محسن رضائی کو یہ اہم ذمہ داری ایسے وقت میں سونپی گئی ہے جب ایران کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کی تقرری کو ایرانی سکیورٹی اور دفاعی پالیسی میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
محسن رضائی ایران کی سکیورٹی اور عسکری قیادت میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں اور 1981 سے 1997 تک اس اہم فورس کی قیادت کی۔
پاسداران انقلاب کی کمان کے دوران محسن رضائی نے ایران کی عسکری حکمت عملی میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں وہ ملکی سیاسی اور سکیورٹی معاملات میں بھی فعال رہے اور ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل ایران کا ایک اہم فیصلہ ساز ادارہ ہے، جو ملک کی قومی سلامتی، دفاعی پالیسی اور خارجہ پالیسی سے متعلق اہم معاملات پر غور کرتا ہے۔ اس ادارے میں محسن رضائی کی نمائندگی انہیں ایران کے حساس سکیورٹی معاملات میں مزید اہم کردار فراہم کر سکتی ہے۔
محسن رضائی کی نئی ذمہ داری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کو امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق محسن رضائی کا طویل عسکری تجربہ اور سپریم لیڈر کے قریبی مشیر کی حیثیت سے ان کا پس منظر اس تقرری کو خاص اہمیت دیتا ہے۔ تاہم نئی ذمہ داری کے تحت ان کے عملی اختیارات اور کردار کی مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔