ایرانی میزائل حملوں کا جواب، امریکا نے 5 آئل ٹینکرز نشانہ بنا دیے

فہرستِ مضامین

واشنگٹن/تہران: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے 8 ستمبر کو خلیجِ عمان میں ایرانی خام تیل سے لدے 5 ٹینکروں کو تباہ کر دیا۔

سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائی ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے گزشتہ دو روز کے دوران ایک امریکی جنگی بحری جہاز کو مبینہ طور پر دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کے جواب میں کی گئی۔

امریکی فوج نے جن ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، ان میں کافیز، شارمینار، ہورائزن 1 اور ریسکو شامل ہیں، جبکہ پانچویں جہاز کا نام بیان میں واضح نہیں کیا گیا۔

سینٹ کام کا کہنا ہے کہ یہ تیل بردار جہاز ایک ایسے خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھے جو مبینہ طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ امریکی کمانڈ کے مطابق ایرانی تیل بردار جہازوں کے پاس امریکی حملوں سے مؤثر دفاع کا کوئی ذریعہ نہیں۔

امریکی فوج نے مزید کہا کہ ایرانی حملوں کے باوجود امریکی جنگی جہاز محفوظ رہا اور علاقائی پانیوں میں معمول کے مطابق گشت جاری رکھا، جبکہ کارروائی میں کسی امریکی فوجی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں۔

روبیو: ایرانی حملوں کی صورت میں مزید ٹینکر نشانہ بنیں گے

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکہ ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

کولمبیا کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں روبیو نے کہا کہ ایران مسلسل امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور جب بھی ایران ایسا کرے گا یا اس کی کوشش کرے گا، امریکہ ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے گا۔

اس سے قبل ایک امریکی عہدیدار نے بھی تصدیق کی تھی کہ امریکی فوج نے پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ طور پر منسلک متعدد ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔ عہدیدار کے مطابق کارروائی امریکی جنگی جہاز پر ایرانی میزائل حملے کی مبینہ کوشش کے ردعمل میں کی گئی۔

خارک اور جاسک میں دھماکوں کی اطلاعات

دوسری جانب ایرانی خبر رساں اداروں مہر اور فارس نے جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع دی۔

مقامی رپورٹس کے مطابق خارک جزیرے کے مختلف حصوں میں دھماکے ہوئے۔ خارک ایران کی تیل برآمدات کا اہم مرکز ہے اور یہاں ملک کا مرکزی آئل ایکسپورٹ ٹرمینل بھی موجود ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے دعویٰ کیا کہ خارک کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر امریکی میزائل حملے میں نشانہ بنا۔ رپورٹ کے مطابق میزائل جہاز کے قریب لنگر انداز ہونے والے علاقے میں گرا۔ مقامی ذرائع کے مطابق واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور ٹینکر کے عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

اسی دوران جنوبی ساحلی شہر جاسک میں بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ فارس کے مطابق شہر میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ ایرانی ٹیلی ویژن نے دعویٰ کیا کہ امریکی فورسز نے جاسک کے قریب ایک اور ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا۔

کشیدگی میں مزید اضافہ

خارک اور جاسک دونوں ایران کے لیے تیل کی برآمد اور سمندری نقل و حمل کے حوالے سے اہم مقامات ہیں۔ حالیہ واقعات کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل اور جون میں دو مرتبہ جنگ بندی کے معاہدوں کا اعلان کیا گیا تھا، جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنا اور کئی ماہ سے جاری تنازع کو کم کرنا تھا، تاہم دونوں معاہدے زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکے۔

13 جولائی کو جنگ بندی ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں پر دوبارہ دباؤ بڑھایا اور ایرانی بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد تہران کو تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے محروم کرنا ہے، جو ایران کے لیے اہم زرِمبادلہ کا ذریعہ ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں