واشنگٹن / تہران: امریکا اور ایران کے درمیان 8 اپریل سے جاری جنگ بندی ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہو گئی ہے، جب آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس تازہ کشیدگی نے خطے میں ایک نئی جنگ کے خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔
امریکی صدر Donald Trump نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ کے تین جدید جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے کہ ان پر ایرانی فورسز نے حملہ کیا۔ ٹرمپ کے مطابق امریکی جہاز محفوظ رہے جبکہ ایرانی حملہ آوروں کو “بھاری نقصان” اٹھانا پڑا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ نے صورتحال پر مکمل کنٹرول رکھا اور دشمن کے عزائم ناکام بنا دیے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکا نے پہلے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔ ایرانی فوجی ترجمان کے مطابق امریکی فورسز نے ایک ایرانی آئل ٹینکر اور دیگر بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جبکہ قشم جزیرے اور جنوبی ساحلی علاقوں میں فضائی حملے بھی کیے گئے۔
ایران کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے جواب میں اس نے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے اور چاہ بہار کے قریب موجود امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے امریکی تنصیبات کو “نمایاں نقصان” پہنچا۔
بعد ازاں ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ کئی گھنٹوں کی فائرنگ کے بعد صورتحال اب دوبارہ معمول پر آ چکی ہے۔
جنگ بندی برقرار رہے گی یا نیا محاذ کھلے گا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ جھڑپیں اگرچہ مکمل جنگ کا آغاز نہیں لیکن یہ واضح اشارہ ضرور ہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی اور ایرانی حکام اس وقت جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے پر غور کر رہے ہیں، تاہم اہم اختلافات اب بھی موجود ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بحری راستوں اور ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر۔
امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے حالیہ دنوں میں کہا تھا کہ امریکا “اپنے مفادات کے دفاع” کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، جبکہ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن جنگ بندی کو یکطرفہ انداز میں استعمال کر رہا ہے۔
خلیجی ممالک بھی نشانے پر
کشیدگی صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہی۔ متحدہ عرب امارات نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایرانی میزائل اور ڈرونز کو فضاء میں روکنے کے لیے دفاعی کارروائیاں کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق فجیرہ کی بندرگاہ کے قریب بھی میزائل حملے ہوئے جہاں ایک آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی تیل سپلائی اور معیشت شدید متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے۔
آبنائے ہرمز پھر میدانِ جنگ بن گئی، امریکا اور ایران کے درمیان فائرنگ
امریکا اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز میں ہونے والی تازہ فوجی جھڑپوں نے پورے خطے کو ہائی الرٹ پر پہنچا دیا۔
امریکی صدر Donald Trump نے کہا کہ ایرانی فورسز نے امریکی بحری بیڑے پر حملہ کیا، تاہم امریکی فوج نے فوری جواب دیتے ہوئے ایرانی اہداف کو تباہ کر دیا۔
ایران نے اس کے برعکس دعویٰ کیا کہ امریکا نے پہلے اس کے بحری جہازوں اور ساحلی علاقوں پر حملے کیے، جس کے بعد جوابی کارروائی کی گئی۔
دفاعی ماہرین کے مطابق دونوں ممالک اس وقت براہِ راست جنگ سے بچنا چاہتے ہیں، لیکن طاقت کا مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط بنا سکیں۔
ادھر تہران اب بھی امریکی امن تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان سمیت بعض ممالک پسِ پردہ ثالثی میں مصروف ہیں۔
اگرچہ دونوں جانب سے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ صورتحال کسی بھی وقت مزید خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے۔