چین میں ٹرمپ کے ہمراہ امریکی بزنس جائنٹس، نئی معاشی ڈیلز کی تیاری شروع

فہرستِ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے سرکاری دورۂ چین کے دوران امریکی کاروباری دنیا کی بڑی شخصیات کو بھی ساتھ لے کر بیجنگ پہنچ گئے، جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے تجارت، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سمیت اہم معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔

بیجنگ آمد پر چینی قیادت نے ٹرمپ کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ ان کے ہمراہ آنے والے امریکی سی ای اوز کو بھی خاص اہمیت دی گئی۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران امریکی وفد کو “امریکی کاروباری برادری کے ممتاز نمائندے” قرار دیا، جو چین کے ساتھ تعلقات کو اہم سمجھتے ہیں۔

امریکی کمپنیوں کے سربراہان نے بھی چینی صدر کو یقین دلایا کہ وہ چینی مارکیٹ میں مزید سرمایہ کاری اور کاروباری توسیع کے خواہاں ہیں۔ جواب میں شی جن پنگ نے کہا کہ امریکی کمپنیوں کے لیے چین میں “مزید وسیع مواقع” موجود ہیں اور دونوں ممالک باہمی فائدے پر مبنی تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔

تجارتی جنگ کے سائے میں اہم مذاکرات

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان کئی برسوں سے جاری تجارتی کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ گزشتہ برس ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے بھاری ٹیرف کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر 100 فیصد سے زائد محصولات عائد کیے تھے۔

ذرائع کے مطابق دونوں رہنما جنوبی کوریا میں گزشتہ ملاقات کے دوران ہونے والے ایک سالہ تجارتی جنگ بندی معاہدے میں توسیع، اور چین سے نایاب معدنیات (ریئر ارتھ میٹلز) کی برآمدات سے متعلق معاملات پر بھی گفتگو کریں گے۔

وفد میں کون کون شامل ہے؟

ٹرمپ کے ہمراہ دنیا کی چند بڑی کمپنیوں کے سربراہان بھی چین پہنچے ہیں، جن میں:

  1. ایلون مسک — ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ
  2. ٹِم کُک — ایپل
  3. ڈیوڈ سولومن — گولڈمین ساکس
  4. لیری فنک — بلیک راک
  5. جین فریزر — سِٹی
  6. اسٹیفن شوارزمین — بلیک اسٹون
  7. کیلی اورٹبرگ — بوئنگ
  8. جینسن ہوانگ — اینویڈیا

اس کے علاوہ میٹا، ویزا، سسکو، کوالکوم، ماسٹرکارڈ اور دیگر بڑی امریکی کمپنیاں بھی وفد کا حصہ ہیں۔

ایلون مسک اور اینویڈیا کی نظریں چین پر

ایلون مسک چین میں نہ صرف ٹیسلا کی توسیع چاہتے ہیں بلکہ وہ سولر پینلز کی تیاری کے لیے چینی کمپنیوں سے اربوں ڈالر مالیت کا سامان خریدنے کے خواہاں بھی ہیں۔ چین ٹیسلا کے لیے ایک بڑی مارکیٹ بن چکا ہے، جبکہ شنگھائی گیگا فیکٹری کمپنی کا اہم برآمدی مرکز تصور کی جاتی ہے۔

دوسری جانب اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ چین میں جدید اے آئی چپس کی فروخت بحال کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی پابندیوں کے باعث اینویڈیا کی چین میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں، لیکن اب کمپنی دوبارہ چینی مارکیٹ تک رسائی چاہتی ہے۔

ایپل اور بوئنگ کے مفادات

ایپل اب بھی اپنی آئی فون پیداوار کے لیے بڑی حد تک چین پر انحصار کرتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ میں فروخت ہونے والے بیشتر آئی فونز چین میں تیار ہوتے ہیں، اسی لیے ایپل چین کے ساتھ مستحکم تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

ادھر بوئنگ بھی چین کے ساتھ بڑے طیارہ معاہدوں کی امید لگائے بیٹھا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ چین سیکڑوں بوئنگ 737 میکس اور 787 ڈریم لائنر طیارے خریدنے پر غور کر رہا ہے۔

ٹرمپ کے سیاسی مقاصد بھی اہم

ماہرین کے مطابق ٹرمپ اس دورے کے ذریعے نہ صرف امریکی کمپنیوں کے لیے چینی مارکیٹ کے دروازے مزید کھلوانا چاہتے ہیں بلکہ وہ نومبر میں ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات سے پہلے اپنی سیاسی مقبولیت بھی مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ چین سے بڑی سرمایہ کاری، نئی تجارتی ڈیلز یا امریکی صنعت کے لیے بہتر شرائط حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو وہ اسے اپنی بڑی سفارتی اور معاشی کامیابی کے طور پر پیش کریں گے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں