کیا مصنوعی ذہانت انسانیت کی میراث ہے یا چند بڑی کارپوریشنز کی جاگیر؟ دنیا کے امیر ترین انسان ایلون مسک اور اوپن اے آئی (OpenAI) کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین اب عدالت میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔
مسک کا الزام ہے کہ اوپن اے آئی نے “اپنی روح بیچ دی ہے”۔ ایک خیراتی ادارے سے ٹریلین ڈالر کی ممکنہ کمپنی بننے کا سفر، کیا واقعی انسانیت کی بقا کے لیے ضروری تھا؟ مسک آج اسے “چوری کی گئی خیرات” قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق آلٹمین نے انسانیت کے نام پر دھوکہ دیا اور ایک غیر منافع بخش ادارے کو منافع کمانے والی مشین میں بدل دیا۔
دوسری طرف سیم آلٹمین کا مؤقف ہے کہ بہترین تحقیق کے لیے بڑے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسک کمپنی کی 90 فیصد ملکیت چاہتے تھے، اور وہ ایک ریسرچ لیب چلانے کے قابل نہیں تھے بلکہ صرف کنٹرول چاہتے تھے۔ کیا مسک کا “اوپن سورس” کا نعرہ صرف اس وقت تک تھا جب تک باگ ڈور ان کے ہاتھ میں تھی؟
یہ صرف ایک مقدمہ نہیں بلکہ 150 ارب ڈالر کی وہ جنگ ہے جو مصنوعی ذہانت کے مستقبل کا تعین کرے گی۔ اگر مسک یہ کیس جیت جاتے ہیں تو سیم آلٹمین کو اپنی کرسی چھوڑنی پڑ سکتی ہے اور پوری کمپنی بکھر بھی سکتی ہے۔ ایک خیراتی ادارے سے ٹریلین ڈالر کی ممکنہ کمپنی تک کا سفر کیا واقعی انسانیت کی بقا کے لیے ضروری تھا؟
کون جیتتا ہے اور کون ہارتا ہے، شاید یہ اتنا اہم نہ ہو… جتنا اہم یہ سوال ہے کہ کیا ہم ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں اخلاقیات کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں؟ کیا اوپن اے آئی اب بھی “اوپن” ہے؟ یا یہ صرف ایک نئی قسم کی ڈیجیٹل آمریت کی شروعات ہے؟