مقامی ٹیکنالوجی کی بڑی کامیابی، “فتح-4” نے سب کو حیران کر دیا

فہرستِ مضامین

پاکستان آرمی نے اپنے دفاعی پروگرام میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے مقامی سطح پر تیار کردہ جدید کروز میزائل “فتح-4” کا کامیاب تربیتی تجربہ مکمل کر لیا ہے۔ یہ تجربہ پاکستان آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی جانب سے کیا گیا، جسے دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ میزائل جدید ایویانکس، اپ گریڈڈ نیویگیشن سسٹم اور انتہائی درست ہدف بندی کی صلاحیتوں سے لیس ہے، جو طویل فاصلے تک اہداف کو اعلیٰ درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ تجربے کا بنیادی مقصد مختلف تکنیکی نظاموں کی کارکردگی کو جانچنا اور مجموعی آپریشنل تیاری کو مزید بہتر بنانا تھا۔

اس موقع پر پاکستان آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ساتھ میزائل پروگرام سے وابستہ سائنسدانوں اور انجینیئرز نے بھی تجربے کا مشاہدہ کیا، جبکہ منصوبے کو مکمل قومی تکنیکی ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیا گیا۔

تجربے کی کامیابی پر صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم، چیف آف آرمی اسٹاف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، سربراہ پاک بحریہ اور سربراہ پاک فضائیہ کی جانب سے ٹیم کو مبارکباد دی گئی۔ انہوں نے اس منصوبے میں شامل سائنسدانوں اور تکنیکی عملے کی محنت، مہارت اور عزم کو سراہا۔

پاکستان گزشتہ چند برسوں سے اپنی مقامی دفاعی صنعت میں “فتح” میزائل سیریز کو مسلسل اپ گریڈ کر رہا ہے، جسے روایتی جنگی حکمتِ عملی میں ایک اہم تکنیکی پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ نظام جدید گائیڈڈ راکٹ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جو حساس اہداف کو کم وقت میں اور زیادہ درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس سے قبل “فتح-1”، “فتح-2” اور “فتح-3” کے کامیاب تجربات کیے جا چکے ہیں۔ فتح سیریز کا آغاز 2021 میں “فتح-1” کے ساتھ ہوا تھا، جو نسبتاً کم فاصلے تک مار کرنے والا نظام تھا۔ بعد ازاں اس میں بہتری لا کر رینج اور درستگی میں نمایاں اضافہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں “فتح-2” اور پھر “فتح-3” سامنے آئے۔

مارچ 2024 میں ان سسٹمز کو یومِ پاکستان کی پریڈ کے دوران بھی عوامی سطح پر پیش کیا گیا، جہاں ان کی ٹیکنالوجی اور صلاحیتوں نے خاص توجہ حاصل کی۔

“فتح” میزائل سسٹم کی خاص بات اس کی رینج اور انتہائی کم انحراف کی شرح ہے، جو اسے مخصوص اہداف کے لیے مؤثر بناتی ہے۔ جدید سیٹلائٹ نیویگیشن سے منسلک یہ نظام پرواز کے دوران راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، جسے فوجی اصطلاح میں “مڈ کورس مینُوورنگ” کہا جاتا ہے۔

یہ میزائل ایک جدید ملٹی لانچر سسٹم پر نصب کیا جاتا ہے، جو بیک وقت متعدد راکٹ فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مخصوص چینی ساختہ فوجی گاڑیوں پر مبنی پلیٹ فارم استعمال کرتا ہے۔

علاقائی تناظر میں دیکھا جائے تو جنوبی ایشیا میں دفاعی ٹیکنالوجی کی دوڑ مسلسل تیز ہو رہی ہے، جہاں پاکستان اور بھارت دونوں اپنی میزائل اور ڈیفنس سسٹمز کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے گائیڈڈ سسٹمز مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی میں مرکزی کردار ادا کریں گے، کیونکہ یہ کم وقت میں زیادہ درست اور مؤثر کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں