آبنائے ہرمز میں نئی کشیدگی، امریکا اور ایران ایک بار پھر آمنے سامنے

فہرستِ مضامین

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے باوجود خلیج میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر Donald Trump نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حملوں کے باوجود امریکی بحری بیڑا محفوظ رہا اور ایرانی فورسز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہازوں پر حملے کے بعد امریکی فوج نے فوری جوابی کارروائی کی، جس میں ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، لیکن اگر ایران نے امریکی امن تجاویز قبول نہ کیں تو مزید سخت کارروائیاں کی جائیں گی۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات جاری ہیں، جبکہ پاکستان سمیت بعض ممالک ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

دوسری طرف ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا نے پہلے جنگ بندی توڑی اور ایرانی جہازوں و ساحلی علاقوں پر حملے کیے، جس کے بعد ایرانی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ ایرانی افواج نے امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا اور مستقبل میں بھی ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ جھڑپیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ جنگ بندی انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تیل تجارت کے لیے بھی بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں