ایران نے آبنائے ہُرمُز کی بحالی کے معاملے پر امریکا کے سامنے مطالبات رکھ دیے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے CNN کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکی حکام کو مطالبات کی فہرست پیش کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے آبنائے ہُرمُز کھولنے کے لیے امریکا سے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا ہے، جس کی مدت گزشتہ روز ختم ہوگئی۔
مذکورہ مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا اور ایران نے لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ ایران نے ایٹمی ہتھیار تیار یا حاصل نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
معاہدے میں آبنائے ہُرمُز کو کھلا رکھنے کے بدلے امریکا کی جانب سے ایرانی بحری ناکا بندی ختم کرنے کی شرط بھی شامل تھی۔
اس کے علاوہ امریکا نے ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنے، ملک کی تعمیرِ نو میں تعاون اور ایرانی منجمد اثاثے بحال کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی۔
ایرانی مطالبات سامنے آنے کے بعد آبنائے ہُرمُز کی صورتحال اور امریکا ایران مذاکرات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔