تحریر: فہمیدہ ریاض
کراچی کی ایک سب سے مصروف سڑک، یونیورسٹی روڈ۔ یہاں سے روزانہ لاکھوں عام شہریوں سمیت طلباء، اساتذہ اور ملازمین گزرتے ہیں
2022 میں ان سب کو ایک سنہرا خواب دکھایا گیا ۔کراچی ریڈ لائن۔ بی آر ٹی۔ ایک ایسا منصوبہ جو نہ صرف ٹریفک کا حل تھا بلکہ پاکستان کا پہلا ماحول دوست “زیرو ایمیشن” ٹرانسپورٹ سسٹم بھی تھا۔
لیکن آج، چار سال بعد، یہ خواب ایک ایسے سیاسی اور مالیاتی گورکھ دھندے میں بدل چکا ہے جہاں سڑکیں تو کھد گئیں مگر بسیں کہیں نظر نہیں آتیں۔
ناظرین آج ہم بات کریں گے بی آر ٹی منصوبے کی “لاٹ ٹو یعنی نمائش سے سچل گوٹھ تک کے منصوبے کی، جس کا ٹھیکہ حکومت سندھ نے اپریل 2026 میں اچانک ختم کر دیا ۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ اور اس ملٹی ارب روپے کے منصوبے کی تاخیر اور لاگت میں اضافے کا ذمہ دار کون ہے؟
ناظرین ایران اور امریکہ کے درمیان جو مذاکرات ہوئے تو اس میں ریڈ لائن بی آر ٹی کا ذکر بھی آیا۔ یہ ذکر مذاکرات کی ٹیبل پر نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر تھا کیونکہ صارفین مزاحیہ انداز میں یہ لکھ رہے تھے کہ پہلے آبنائے ہرمز کھلے گا یا یونیورسٹی روڈ۔ اسی طرح امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ایک میم بھی بنائی گئی جس میں وہ گرد آلود نظر آتے ہیں ساتھ میں لکھا تھا یہ یونیورسٹی روڈ سے آئے ہیں۔
ناظرین ریڈ لائن بی آر ٹی صرف ایک بس سروس نہیں تھی۔ یہ 26 کلومیٹر طویل ایک کوریڈور ہے جو ماڈل کالونی سے نمائش تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت اس کا بائیو میتھین گیس پلانٹ ہے۔ بھینس کالونی کے فضلے سے گیس بنا کر بسیں چلانے کا یہ آئیڈیا عالمی سطح پر سراہا گیا۔
لیکن جتنا بڑا یہ آئیڈیا تھا، اتنی ہی بڑی اس کی قیمت تھی۔ 79 ارب روپے سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ آج 103 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ یعنی 30 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوچکا ہے۔
مارچ 2022 میں جب کام شروع ہوا، تو امید تھی کہ جون 2024 تک یہ مکمل ہو جائے گا۔ مگر پھر “انتظامی نااہلی” کا سفر شروع ہوا۔
یونیورسٹی روڈ کے نیچے پانی، سیوریج اور گیس کی وہ لائنیں نکلیں جن کا ریکارڈ ہی موجود نہیں تھا۔ انہیں منتقل کرنے میں ہی سالوں ضائع ہو گئے۔
جبکہ کنٹریکٹر کا دعویٰ ہے کہ اسے منصوبے کا حتمی ڈیزائن ہی ڈھائی سال کی تاخیر سے دیا گیا۔
روپے کی قدر گری۔ پیٹرول مہنگا ہوا۔ اور ٹھیکیدار و حکومت کے درمیان ادائیگیوں پر جنگ شروع ہو گئی۔ جو منصوبہ دو بسروں میں مکمل ہونا تھا اس کو چار سال لگ گئے لیکن پھر بھی دور دور تک مکمل ہونے کام و نشان نہیں۔
ایک طرف حکومت ٹھیکیدار پر الزام لگاتی ہے، تو دوسری طرف ایک انکوائری بورڈ نے خود حکومت کو 3.7 ارب روپے کی اضافی ادائیگیوں کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے۔
بالاخر پچھلے دنوں حکومت سندھ نے یہ کانٹریکٹ معطل کردیا اور اس کی تین وجوہات سامنے آئیں۔
ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے معائنے کے بعد واضح کیا کہ کام کا معیار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔ ٹھیکیدار پر الزام لگا کہ اس نے ماحولیاتی اور حفاظتی قوانین کی دھجیاں اڑائیں، جس سے عام شہریوں کی زندگی خطرے میں پڑی۔
معاملہ اتنا بڑھا کہ پولیس نے ٹھیکیدار کے دفاتر سیل کر دیے تاکہ اربوں روپے کی سرکاری مشینری پر قبضہ برقرار رکھا جا سکے، کانٹریکٹر نے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔
حکومت اب اس منصوبے کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹ کر نئے ٹھیکیداروں کو دینے کا سوچ رہی ہے۔
اب دو رکاوٹیں آنے کا خدشہ ہے ایک تو اگر عدالتی کارروائی میں میں تاخیر ہوتی ہے تو منصوبے میں تاخیر یقینی ہے دوسرا نئے ٹھیکے کے لیے دوبارہ نیلامی ہوگی ٹھیکے ملیں گے اس سے بھی تاخیر یقینی ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا 2026 کے اختتام تک یونیورسٹی روڈ پر بسیں چلیں گی یا صرف دھول اڑتی رہے گی؟