تحریر: اِشفاق احمد
بھارت کی سیاست میں اکثر احتجاج ہوتے رہے ہیں، مگر حالیہ “کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)” کی تحریک نے یہ ثابت کر دیا کہ سوشل میڈیا پر جنم لینے والی ایک نوجوان تحریک بھی اگر منظم ہو تو ملک کی طاقتور حکومت کو دفاعی پوزیشن پر لا سکتی ہے۔ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے نے نہ صرف حکومت کو سیاسی دھچکا پہنچایا بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی مضبوط قیادت کے تاثر پر بھی سوالات اٹھا دیے۔
ہفتوں تک جاری رہنے والے اس احتجاج کے بعد دہلی کے جنتر منتر پر خاموشی تو چھا گئی، لیکن ایک سوال اب بھی زندہ ہے: کیا یہ احتجاج ختم ہوا ہے، یا یہ کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا آغاز ہے؟
احتجاج ختم، مگر کہانی باقی
ہزاروں طلبہ اور نوجوان امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک ہونے کے واقعات اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکلے تھے۔ حکومت کے لیے سب سے بڑا دھچکا اس وقت ثابت ہوا جب عوامی دباؤ کے نتیجے میں وزیرِ تعلیم کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔
تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے احتجاج ختم کرتے ہوئے ایک مختصر مگر معنی خیز جملہ کہا:
“یہ اختتام نہیں، ہم دوبارہ واپس آئیں گے۔”
یہ الفاظ اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ تحریک وقتی طور پر رکی ہے، ختم نہیں ہوئی۔
حکومت نے کیا مانا؟
احتجاج کے بعد حکومت نے چند اہم مطالبات تسلیم کیے۔
اعلان کیا گیا کہ امتحانی بحران سے متاثرہ طلبہ کے خاندانوں کو قانون کے مطابق زیادہ سے زیادہ مالی امداد دی جائے گی۔ اس کے ساتھ حکومت نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ احتجاج میں شریک طلبہ اور منتظمین کے خلاف قائم مقدمات واپس لیے جائیں گے، کم از کم ان ریاستوں میں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔
تاہم زمینی صورتحال اس سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ مختلف ریاستوں میں احتجاج سے وابستہ افراد کی گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس سے حکومتی وعدوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پولیس کارروائی پر تنازع برقرار
20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کی سخت کارروائی نے پورے ملک میں ہمدردی کی لہر پیدا کر دی تھی۔
تحریک کی قیادت اب بھی اس مطالبے پر قائم ہے کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز عوامی طور پر معافی مانگیں اور طاقت کے استعمال کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
اگرچہ احتجاج ختم ہو چکا ہے، لیکن یہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا۔
“کاکروچ” سے تحریک تک
اس تحریک کا آغاز ایک طنزیہ جملے سے ہوا، جب بے روزگار نوجوانوں کو “کاکروچ” قرار دینے والے ایک متنازع بیان کے بعد سوشل میڈیا پر نوجوانوں نے اسی لفظ کو اپنی شناخت بنا لیا۔
چند ہفتوں میں یہی طنز ایک احتجاجی علامت میں تبدیل ہو گیا۔
یہی اس تحریک کی سب سے بڑی کامیابی بھی ہے کہ اس نے منفی لفظ کو سیاسی مزاحمت کی علامت بنا دیا۔
اب اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
تحریک کی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ اب صرف تعلیم تک محدود نہیں رہے گی بلکہ روزگار، سماجی انصاف، عوامی مسائل اور نوجوانوں کے دیگر حقوق کو بھی اپنے ایجنڈے میں شامل کرے گی۔
تاہم ایک اہم سوال اب بھی باقی ہے:
کیا CJP مستقبل میں سیاسی جماعت بنے گی؟
اس سوال کا واضح جواب ابھی کسی کے پاس نہیں۔
تحریک سے وابستہ رہنما کہتے ہیں کہ فی الحال وہ تنظیم سازی، عوام سے رابطے اور مقامی سطح پر اپنی بنیاد مضبوط کرنے پر توجہ دیں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ تحریک کے پاس ابھی مکمل سیاسی منصوبہ موجود نہ ہو، کیونکہ اس کی قیادت روایتی سیاست کے بجائے میڈیا اور عوامی رابطوں کے پس منظر سے تعلق رکھتی ہے۔
اپوزیشن کا مؤقف
بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے وزیرِ تعلیم کے استعفے کو نوجوانوں کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
کانگریس رہنما راہول گاندھی نے پولیس کارروائی کی تحقیقات، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی اور طلبہ سے ہونے والے تشدد پر حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔
دوسری جانب سماج وادی پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اب امتحانی نظام کو شفاف بنانے، پرچہ لیک روکنے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔
نتیجہ
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ بلاشبہ اس تحریک کی پہلی بڑی کامیابی ہے، مگر اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔
اگر “کاکروچ تحریک” اپنی توانائی کو منظم سیاسی اور سماجی پروگرام میں تبدیل کر لیتی ہے تو یہ بھارتی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر واضح حکمت عملی نہ بن سکی تو یہ احتجاج بھی ماضی کی کئی وقتی تحریکوں کی طرح تاریخ کے صفحات میں محدود ہو سکتا ہے۔
فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ بھارتی نوجوانوں نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر اٹھنے والی آواز، اگر عوامی طاقت میں بدل جائے، تو ایوانِ اقتدار تک اس کی گونج ضرور پہنچتی ہے۔